افغانستان سے ٹی ٹی پی حملوں میں اضافہ، پاکستان کی انسدادی کارروائیاں دہشتگردوں کے لیے بڑی ناکامی، اقوام متحدہ

بدھ 11 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل (UNSC) کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے پاکستان پر منظور شدہ دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے حملے بڑھ گئے ہیں، جو اسلام آباد کی دہائیوں سے کی جانے والی شکایات کی تصدیق ہے کہ افغان سرحد کے پار دہشتگرد محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، TTP نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور ریاستی ڈھانچوں پر پیچیدہ حملے کیے، بعض اوقات بڑی تعداد میں مسلح عناصر کے ساتھ، جس کے نتیجے میں فوجی اور شہری دونوں جانی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ پاکستانی فوج کے ’آپریشن ردّ الفتنہ 1‘ کے دوران بلوچستان میں 36 شہری اور 22 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 216 دہشتگرد مارے گئے۔

مزید پڑھیں:افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان سے کس طرح لاتعلقی کر سکتے ہیں؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت میںTTP   کو زیادہ آزادی اور سہارا حاصل ہے، جس کے باعث پاکستان پر حملے بڑھ گئے اور خطے میں تناؤ میں اضافہ ہوا۔ علاوہ ازیں، القاعدہ نے بھی TTP سمیت دیگر گروپوں کو تربیت اور مشاورت فراہم کی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے بھی پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور CPEC منصوبوں کو نشانہ بنایا، جس میں 16 ستمبر 2025 کو ایک حملے میں 32 فوجی ہلاک ہوئے۔ بعض ریاستی ذرائع کے مطابق، BLA نے TTP اور ISIL-K کے ساتھ مشترکہ تربیتی کیمپ اور وسائل شیئر کیے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں دہشتگرد گروہوں کی اسلحہ اور جدید آلات تک رسائی بھی نوٹ کی گئی، جس میں رات میں دیکھنے کے آلات، تھرمل امیجنگ، اسنائپر سسٹمز اور ڈرون شامل ہیں، جو زیادہ تر افغان حکام کی جانب سے مہیا کیے گئے۔

رپورٹ میں افغان شہریوں کی TTP میں بڑھتی ہوئی شمولیت کی تصدیق کی گئی، جو پاکستان میں خودکش حملوں میں شامل ہیں۔ یہ پاکستان کے دعوے کی تصدیق کرتا ہے کہ افغان شہری دہشتگرد حملوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کے لیے ناممکن ہے کہ تحریک طالبان پاکستان پر دباؤ ڈالیں؛ فخر کاکاخیل

رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کی انسداد دہشتگردی کارروائیاں  TTP  اور BLA کے لیے بڑا دھچکا رہی ہیں، جس میں TTP کے نائب امیر مفتی مظاہر کی پاکستانی آپریشن میں ہلاکت شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے۔ پاکستان نے بارہا افغان طالبان اور بھارت کے درمیان دہشتگردی کے ممکنہ روابط کی نشاندہی کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’یہ خود کو جان بوجھ کر مظلوم ظاہر کرتے ہیں‘، امریکی گلوکار کی امریکی صیہونیوں پر شدید تنقید

پاکستان نے یو اے ای کے 3.45 ارب ڈالر کے ڈپازٹس مکمل واپس کر دیے

برطانیہ اور فرانس کی آبنائے ہرمز سیکیورٹی منصوبے پر پیشرفت، 44 ممالک لندن مذاکرات میں شریک

ڈیجیٹل معیشت کا فروغ: حکومت پنجاب کی 50 ہزار ماہانہ وظیفے کے ساتھ انٹرن شپ اسکیم کی رجسٹریشن شروع

بھارت کیجانب سے منشیات نیٹ ورک کو کیمیکل فراہمی بے نقاب، عالمی تشویش بڑھ گئی

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار