افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی سے خطے کو سنگین خطرات لاحق، اقوام متحدہ

بدھ 11 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرے کے طور پر ابھر رہا ہے۔ سرحد پار دراندازی، دہشتگرد حملوں اور مسلح جھڑپوں کے تسلسل نے نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ وسیع تر خطے کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔

افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر بار بار پیش آنے والے واقعات کے بعد روس کی قیادت میں قائم کلیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (CSTO) نے اعلان کیا ہے کہ وہ تاجک سرحدی فورسز کو جدید اسلحہ اور آلات فراہم کرے گی تاکہ افغانستان سے ہونے والی دراندازی اور حملوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے خطرے کی عکاسی کرتا ہے جو افغان سرزمین سے منظم سرگرمیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا نے افغانستان کو مذہبی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں والا ملک قرار دینے کی تجویز دے دی

حالیہ واقعات نے خطرے کی شدت واضح کر دی

26 نومبر 2025 کو بدخشاں (افغانستان) سے اڑنے والے ایک کواڈ کاپٹر ڈرون نے تاجکستان میں ایک چینی تنصیب کو نشانہ بنایا، جس میں 3 چینی شہری ہلاک ہوئے۔ صرف 4 روز بعد 30 نومبر کو ایک اور حملہ افغانستان کی جانب سے کیا گیا جس میں چین روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے 2 کارکن مارے گئے۔ یوں 4 دنوں میں 5 چینی شہری ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔

18 جنوری 2026 کو افغانستان سے دراندازی کرنے والے دہشتگردوں کو مسلح مزاحمت کے بعد ہلاک کیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، ساز و سامان اور لاجسٹک مواد برآمد ہوا، جس سے منظم سرحد پار نیٹ ورک کی تصدیق ہوئی۔ 29 جنوری 2026 کو مسلح اسمگلرز افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہوئے جنہیں جھڑپ کے دوران مار دیا گیا، اور بھاری مقدار میں اسلحہ و منشیات قبضے میں لی گئیں۔

یہ تمام واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغان سرزمین دراندازی، اسمگلنگ اور دہشتگردی سے جڑی سرگرمیوں کے لیے اسٹیجنگ گراؤنڈ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔

افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی

اقوام متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد بین الاقوامی اور علاقائی دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں جبکہ قریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو مختلف گروہوں سے وابستہ ہیں۔

ان میں تحریک طالبان پاکستان (TTP)، داعش خراسان (ISIL-K)، القاعدہ، القاعدہ برصغیر (AQIS)، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (IMU)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM/TIP) اور جماعت انصار اللہ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:افغانستان سے ٹی ٹی پی حملوں میں اضافہ، پاکستان کی انسدادی کارروائیاں دہشتگردوں کے لیے بڑی ناکامی، اقوام متحدہ

یہ گروہ نہ صرف پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں بلکہ چینی شہریوں، علاقائی رابطہ منصوبوں اور اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کے لیے بھی براہِ راست خطرہ ہیں۔

نظریاتی اور سماجی عوامل

طالبان قیادت کے نظریات اور پالیسیوں نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ملک بھر میں مدرسوں کی تیز رفتار توسیع، خواتین کی تعلیم و روزگار سے بے دخلی اور سماجی پابندیوں نے افغانستان کو نظریاتی انتہا پسندی کی نرسری میں تبدیل کر دیا ہے۔ 40 ملین آبادی والے ملک میں 23 ہزار سے زائد مدارس کا قیام ایک ایسے تعلیمی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جہاں تنقیدی سوچ کے بجائے نظریاتی تربیت کو فوقیت حاصل ہے۔

خواتین کو عوامی زندگی، تعلیم اور ملازمت سے باہر رکھنے کے اقدامات غربت، محرومی اور سماجی تنہائی کو بڑھا رہے ہیں، جو شدت پسند تنظیموں کے لیے بھرتی کا سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔

علاقائی اور عالمی اثرات

افغانستان سے پھیلنے والی بدامنی دہشتگردی، منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ کی صورت میں سرحدوں سے باہر منتقل ہو رہی ہے۔ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک فوری نتائج بھگت رہے ہیں، جبکہ علاقائی تجارتی راہداریوں، توانائی منصوبوں اور رابطہ کاری کے اقدامات کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان رمضان سے قبل افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

ماہرین کے مطابق بغیر احتساب کے طالبان حکومت کو معمول پر لانا دہشتگردی کو تقویت دینے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ کسی بھی قسم کی بین الاقوامی شمولیت کو مشروط، قابلِ تصدیق اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے سے منسلک ہونا چاہیے۔

علاقائی سطح پر انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی تعاون، مالی نگرانی اور مشترکہ سفارتی دباؤ پر مبنی حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں رہیں گے، کیونکہ افغانستان کو محض علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی دہشتگردی کے مرکز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دل کے دورے کے بارے میں سب سے بڑا غلط فہمی کیا ہے؟

غزہ کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان

اگلے 12 سے 18 ماہ میں لاکھوں ملازمین اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں

وزیراعظم کا دورۂ امریکا: عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال

سپریم کورٹ: سروس میٹر کیس میں وفاقی حکومت کی اپیل خارج، تاخیر معاف کرنے کی استدعا مسترد

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ