بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تیاریاں مکمل، 394 بین الاقوامی مبصرین، 197 غیرملکی صحافی مشاہدہ کریں گے

بدھ 11 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں عام انتخابات 12 فروری کو منعقد ہوں گے، جس کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قریباً 394 بین الاقوامی انتخابی مبصرین اور 197 غیر ملکی صحافی بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں تاکہ ملک کے 13ویں عام انتخابات اور جولائی نیشنل چارٹر پر ریفرنڈم کا مشاہدہ کر سکیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: اے بی پارٹی نے مختلف راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دے دیا

بین الاقوامی مبصرین میں سے 80 مختلف عالمی تنظیموں کی نمائندگی کررہے ہیں، جبکہ 51 افراد مختلف عالمی اداروں سے وابستہ ہیں۔

عام انتخابات کے لیے بین الاقوامی مبصرین کی تعداد 7 جنوری 2024 کو منعقد ہونے والے متنازع عام انتخابات کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں 12ویں، 11ویں اور 10ویں عام انتخابات کی نگرانی بالترتیب 158، 125 اور صرف 4 بین الاقوامی مبصرین نے کی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2024 میں غیر ملکی مبصرین مشکوک گروپوں سے تعلق رکھتے تھے۔

مبصر مشنز بھیجنے والی اہم تنظیموں میں ایشین نیٹ ورک فار فری الیکشنز شامل

مبصر مشنز بھیجنے والی اہم تنظیموں میں ایشین نیٹ ورک فار فری الیکشنز شامل ہے جس کے 28 مبصرین ہیں، کامن ویلتھ سیکریٹریٹ کے 27، امریکا میں قائم انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے 19، اور نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ کا ایک مبصر شامل ہے۔

دیگر تنظیموں میں اسلامی تعاون تنظیم کے 2 مبصرین، انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز کے 2 اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کا ایک مبصر شامل ہے۔

یورپی یونین کے علاوہ 21 ممالک سے بھی مبصرین آ رہے ہیں، جن میں پاکستان (8)، بھوٹان (2)، سری لنکا (11)، نیپال ایک، انڈونیشیا (3)، فلپائن (2)، ملائیشیا (6)، اردن (2)، ترکیہ (13)، ایران (3)، جارجیا (2)، روس (2)، چین (3)، جاپان (4)، جنوبی کوریا (2)، کرغزستان (2)، ازبکستان (2)، جنوبی افریقہ (2)، اور نائیجیریا سے (4) مبصرین شامل ہیں۔

وزارتِ خارجہ اور الیکشن کمیشن کے مطابق وائس فار جسٹس، ڈیموکریسی انٹرنیشنل، ایس این اے ایس افریقہ، سارک ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن، اور پولش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز سمیت مختلف اداروں کی نمائندگی کرنے والے 51 مبصرین اپنی انفرادی حیثیت میں انتخابات کی نگرانی کریں گے۔

سینیئر سیکرٹری اور ایس ڈی جی کوآرڈی نیٹر نے کہاکہ انتخابی مبصرین بھیجنے والے ممالک اور تنظیموں کے ردعمل سے ہم بہت حوصلہ افزا محسوس کر رہے ہیں۔ یہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت پر عالمی برادری کے اعتماد کا مظہر ہے کہ وہ آزاد، منصفانہ اور شمولیتی انتخابات منعقد کر سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ مبصرین کی تعداد کے علاوہ ان کا معیار بھی خاص طور پر حوصلہ افزا ہے۔ ’بہت سے مبصرین کو دنیا بھر میں انتخابی نگرانی کا وسیع تجربہ اور اعلیٰ اسناد حاصل ہیں۔ یہ ہمارے لیے بہت اطمینان بخش ہے۔‘

واضح رہے کہ پارلیمانی نشستوں کے لیے 50 سے زیادہ سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت 2 ہزار سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں۔ عام انتخابات جولائی نیشنل چارٹر پر ریفرنڈم کے ساتھ بیک وقت منعقد ہوں گے۔

نیشنل چارٹر کیا ہے؟

جولائی نیشنل چارٹر دراصل ایک قومی دستاویز ہے جسے ریفرنڈم کے ذریعے عوامی توثیق کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ چارٹر ملک کے سیاسی و قومی خدوخال، حکمرانی کے اصولوں اور مستقبل کی پالیسی سمت کے تعین سے متعلق بنیادی نکات پر مشتمل ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش عام انتخابات 2026: کیا ہوگا، کب ہوگا اور  کس کا کیا داؤ پر لگا ہے؟

حکومت کے مطابق اس کا مقصد قومی اتفاقِ رائے کو مضبوط بنانا اور ریاستی ڈھانچے کو مزید شفاف و مؤثر بنانا ہے۔

یہ ریفرنڈم عام انتخابات کے ساتھ بیک وقت کرایا جا رہا ہے تاکہ ووٹر ایک ہی دن میں پارلیمانی نمائندوں کے انتخاب کے ساتھ اس قومی دستاویز کے حق یا مخالفت میں اپنی رائے بھی دے سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟