بنگلہ دیش میں عام انتخابات 12 فروری کو منعقد ہوں گے، جس کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قریباً 394 بین الاقوامی انتخابی مبصرین اور 197 غیر ملکی صحافی بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں تاکہ ملک کے 13ویں عام انتخابات اور جولائی نیشنل چارٹر پر ریفرنڈم کا مشاہدہ کر سکیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: اے بی پارٹی نے مختلف راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دے دیا
بین الاقوامی مبصرین میں سے 80 مختلف عالمی تنظیموں کی نمائندگی کررہے ہیں، جبکہ 51 افراد مختلف عالمی اداروں سے وابستہ ہیں۔
عام انتخابات کے لیے بین الاقوامی مبصرین کی تعداد 7 جنوری 2024 کو منعقد ہونے والے متنازع عام انتخابات کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں 12ویں، 11ویں اور 10ویں عام انتخابات کی نگرانی بالترتیب 158، 125 اور صرف 4 بین الاقوامی مبصرین نے کی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2024 میں غیر ملکی مبصرین مشکوک گروپوں سے تعلق رکھتے تھے۔
مبصر مشنز بھیجنے والی اہم تنظیموں میں ایشین نیٹ ورک فار فری الیکشنز شامل
مبصر مشنز بھیجنے والی اہم تنظیموں میں ایشین نیٹ ورک فار فری الیکشنز شامل ہے جس کے 28 مبصرین ہیں، کامن ویلتھ سیکریٹریٹ کے 27، امریکا میں قائم انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے 19، اور نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ کا ایک مبصر شامل ہے۔
دیگر تنظیموں میں اسلامی تعاون تنظیم کے 2 مبصرین، انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز کے 2 اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کا ایک مبصر شامل ہے۔
یورپی یونین کے علاوہ 21 ممالک سے بھی مبصرین آ رہے ہیں، جن میں پاکستان (8)، بھوٹان (2)، سری لنکا (11)، نیپال ایک، انڈونیشیا (3)، فلپائن (2)، ملائیشیا (6)، اردن (2)، ترکیہ (13)، ایران (3)، جارجیا (2)، روس (2)، چین (3)، جاپان (4)، جنوبی کوریا (2)، کرغزستان (2)، ازبکستان (2)، جنوبی افریقہ (2)، اور نائیجیریا سے (4) مبصرین شامل ہیں۔
وزارتِ خارجہ اور الیکشن کمیشن کے مطابق وائس فار جسٹس، ڈیموکریسی انٹرنیشنل، ایس این اے ایس افریقہ، سارک ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن، اور پولش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز سمیت مختلف اداروں کی نمائندگی کرنے والے 51 مبصرین اپنی انفرادی حیثیت میں انتخابات کی نگرانی کریں گے۔
سینیئر سیکرٹری اور ایس ڈی جی کوآرڈی نیٹر نے کہاکہ انتخابی مبصرین بھیجنے والے ممالک اور تنظیموں کے ردعمل سے ہم بہت حوصلہ افزا محسوس کر رہے ہیں۔ یہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت پر عالمی برادری کے اعتماد کا مظہر ہے کہ وہ آزاد، منصفانہ اور شمولیتی انتخابات منعقد کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ مبصرین کی تعداد کے علاوہ ان کا معیار بھی خاص طور پر حوصلہ افزا ہے۔ ’بہت سے مبصرین کو دنیا بھر میں انتخابی نگرانی کا وسیع تجربہ اور اعلیٰ اسناد حاصل ہیں۔ یہ ہمارے لیے بہت اطمینان بخش ہے۔‘
واضح رہے کہ پارلیمانی نشستوں کے لیے 50 سے زیادہ سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت 2 ہزار سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں۔ عام انتخابات جولائی نیشنل چارٹر پر ریفرنڈم کے ساتھ بیک وقت منعقد ہوں گے۔
نیشنل چارٹر کیا ہے؟
جولائی نیشنل چارٹر دراصل ایک قومی دستاویز ہے جسے ریفرنڈم کے ذریعے عوامی توثیق کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ چارٹر ملک کے سیاسی و قومی خدوخال، حکمرانی کے اصولوں اور مستقبل کی پالیسی سمت کے تعین سے متعلق بنیادی نکات پر مشتمل ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش عام انتخابات 2026: کیا ہوگا، کب ہوگا اور کس کا کیا داؤ پر لگا ہے؟
حکومت کے مطابق اس کا مقصد قومی اتفاقِ رائے کو مضبوط بنانا اور ریاستی ڈھانچے کو مزید شفاف و مؤثر بنانا ہے۔
یہ ریفرنڈم عام انتخابات کے ساتھ بیک وقت کرایا جا رہا ہے تاکہ ووٹر ایک ہی دن میں پارلیمانی نمائندوں کے انتخاب کے ساتھ اس قومی دستاویز کے حق یا مخالفت میں اپنی رائے بھی دے سکیں۔














