بنگلہ دیش کے یوتھ اینڈ اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرول نے کہا ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے بھارت نہ جانے کا فیصلہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور قومی کھلاڑیوں نے مشترکہ طور پر کیا۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ تنازع: بنگلہ دیش کے ساتھ زیادتی کا ازالہ کیا جائے، محسن نقوی نے آئی سی سی کے سامنے شرط رکھ دی
منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ٹورنامنٹ میں شرکت سے اجتناب بورڈ اور کھلاڑیوں کی اجتماعی کوشش تھی جو قومی وقار اور سلامتی کے مفاد میں کی گئی۔
انہوں نے کہاکہ ورلڈ کپ نہ کھیلنے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ یہ فیصلہ بی سی بی اور کھلاڑیوں نے ملک کی کرکٹ کی حفاظت، عوام کی سلامتی اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے کیا۔
آصف نذرول نے کہاکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹورنامنٹ سے غیر حاضری پر کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی اور مستقبل میں بین الاقوامی کرکٹ ایونٹ کی میزبانی کے لیے غور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ آئی سی سی نے کہا ہے کہ کوئی سزائیں نہیں ہوں گی اور بنگلہ دیش کو بین الاقوامی ٹورنامنٹ کی میزبانی کے لیے مدنظر رکھا جائے گا، یہ ایک شاندار کامیابی ہے۔ میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
یہ تازہ بیان آصف نذرول کے پہلے مؤقف سے نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ 22 جنوری کو بی سی بی اور سینیئر کھلاڑیوں سے مشاورت کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت مکمل طور پر حکومت کا فیصلہ ہے، جس میں سلامتی کے خدشات اورآئی سی سی کی جانب سے میچز بھارت سے باہر منتقل کرنے کی درخواست کے ردعمل پر عدم اطمینان شامل تھا۔
اس وقت کئی کھلاڑی جن میں سینیئر بیٹر لیٹون داس شامل تھے، نے اشارہ دیا تھا کہ بائیکاٹ کے اعلان سے پہلے مشاورت نہیں کی گئی تھی، جس کے بعد ایڈوائزر اور اسکواڈ کے درمیان ملاقات ہوئی۔
تاہم تازہ بیانات میں آصف نذرول نے وضاحت کی کہ دستبرداری بی سی بی اور کھلاڑیوں کی مشترکہ رضاکارانہ قربانی تھی نہ کہ حکومت کی طرف سے کوئی ہدایت کی گئی۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ سے نکلنے کے بعد بنگلہ دیش کو کتنا مالی نقصان ہونے کا خدشہ ہے؟
آصف نذرول کے مؤقف میں تبدیلی نے اس معاملے کو نئی جہت دی ہے اور یہ سوال پیدا کیا ہے کہ حتمی فیصلہ سازی کا اختیار آخرکار کہاں تھا، جبکہ حکومت اب سرکاری طور پر بورڈ اور کھلاڑیوں کو اس اقدام کے لیے کریڈٹ دے رہی ہے۔














