وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور و سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں عملی طور پر مائنس ون ہوگیا ہے، 8 فروری شٹر ڈاؤن کی ناکامی اس کی مثال ہے، ان کے اپنے صوبے میں بھی شٹرڈاؤن ناکام ہوئی،پی ٹی آئی نے عمران خان کی سیاست کو ترک کردیا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت سے مفاہمت آگے نہیں بڑھ رہی تو یہ پی ٹی آئی کا اپنا قصور ہے، 8 فروری کو شٹرڈاؤن کی کال بالکل ناکام ہوئی ہے، اب انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، رانا ثنااللہ نے میٹنگ کا احوال بتا دیا
کیا عمران خان کو جیل سے گھر یا کہیں اور منتقل کرنے کی آفر کی جاسکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے انہیں کبھی جیل سے منتقلی کی آفر نہیں کی، ہاں اگر وہ صحت کی بنیاد پر اسپتال منتقل ہونا چاہتے ہیں تو وہ عدالت میں درخواست دے سکتے ہیں، عدالت حکم دے تو انہیں اسپتال یا کہیں اور منتقل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی عملی طور پر مائنس ون کی جانب چلی گئی ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عملی طور پر مائنس ون کی طرف چلی گئی ہے، عمران خان نے پارٹی کو ہدایت کی تھی کہ 8 فروری کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن ہونا چاہیے، پورے ملک میں تو چھوڑیں ان کے اپنے صوبے میں بھی شٹرڈاؤن ناکام ہوئی، پی ٹی آئی نے عمران خان کی سیاست کو ترک کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی وزیراعظم سے ملاقات میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے خلاف کوئی بات نہیں کی، وہ اس آپریشن میں پورا تعاون کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میثاق جمہوریت کا مسودہ سامنے آئے گا تو دیکھیں گے، رانا ثنااللہ کا پی ٹی آئی کی پیشکش پر جواب
ان کا کہنا تھا کہ اگر بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا تو یہ مذاق بن جائے گا، اس سے خیبرپختونخوا میں بھی پی ٹی آئی کو نقصان پہنچے گا، علی امین گنڈاپور کو بھی عہدے سے ہٹایا جانا ٹھیک نہیں تھا، کیونکہ وزیراعلیٰ کے عہدے کے تقاضے اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ سڑکوں پر نعرے لگاتا پھرے، یہ علی امین گنڈاپور کے لیے ممکن نہیں تھا اور سہیل آفریدی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ چاہتی ہے کہ بانی جیل میں ہی رہے اور ان کا کام چلتا رہے، باقی پی ٹی آئی میں اچھے لوگ بھی ہیں، انہیں نظام کے مطابق چلنا چاہیے، جو دونوں طرف کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں، اس میں ناکامی ہی ہوتی ہے۔
محمود خان اچکزئی کی وزیراعظم سے ملاقات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر بنے تو ہماری خواہش تھی کہ یہ ملاقات ہوجائے، مگر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ حکومت 8 فروری کال کو ناکام بنانے کے لیے ملاقات کی بات کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کو اسلام آباد تک کوئی نہیں پہنچنے دےگا، رانا ثنااللہ کا اسٹریٹ موومنٹ کی تیاریوں پر ردعمل
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کے پاس اختیار نہیں ہے یا وہ نہیں چاہیں گے کہ وہ عمران خان کی اجازت کے بغیر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں، کیونکہ وہ اجازت کے بغیر ملاقات کرتے ہیں تو پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ ان کو اڑا کے رکھ دے گی۔














