پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ سفارتی روابط میں پیش رفت نے کراچی میں طویل عرصے سے آباد بنگالی کمیونٹی، بالخصوص موسیٰ کالونی جیسے علاقوں (جسے ’منی بنگلہ دیش‘ بھی کہا جاتا ہے) کے رہائشیوں میں سکون اور امید کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
کمیونٹی کے افراد کا کہنا ہے کہ دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سفر نسبتاً آسان ہوا ہے، جس سے ان خاندانوں کو دوبارہ ملنے کا موقع ملا ہے جو ویزا مسائل اور براہِ راست رابطوں کی کمی کے باعث برسوں سے ایک دوسرے سے دور تھے۔ بہت سے رہائشیوں کے لیے اس آسانی کا مطلب اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں سے ملاقات کی امید ہے، جنہیں وہ دہائیوں سے نہیں دیکھ سکے۔
رہائشی اس پیشرفت کو محض سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک گہرا ذاتی تجربہ قرار دیتے ہیں، جس کے اثرات ان کی روزمرہ زندگی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق سفر میں سہولت نے جذباتی فاصلے کم کیے ہیں اور ثقافتی و خاندانی رشتوں کو نئی مضبوطی دی ہے، جو ماضی میں سیاسی پیچیدگیوں کے باعث متاثر رہے۔
کراچی میں مقیم بنگالی کمیونٹی، جو کئی نسلوں سے یہاں آباد ہے، بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوط سماجی اور ثقافتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اب بہتر ہوتے تعلقات کے عملی ثمرات بھی سامنے آ رہے ہیں، جن میں سفری سہولیات میں بہتری اور عوامی سطح پر روابط کا فروغ شامل ہے۔
کمیونٹی کے بزرگوں اور نوجوانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل تعاون سے سفری اور دستاویزی امور مزید آسان ہوں گے، تاکہ خاندان طویل تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کے بغیر ایک دوسرے سے جڑے رہ سکیں۔
موسیٰ کالونی کے بہت سے رہائشیوں کے لیے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں یہ گرمجوشی محض خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں، بلکہ اپنے پیاروں سے دوبارہ ملنے کی دیرینہ خواہش کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔













