پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کی نئی سولر پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’عوام پر معاشی حملہ‘ قرار دے دیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تجزیاتی رپورٹس کے مطابق اس پالیسی کے نتیجے میں عوام پر تقریباً 250 ارب روپے کا اضافی مالی دباؤ پڑے گا۔
پارٹی کے مطابق مذکورہ اضافی مالی دباؤ کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو برداشت کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: نئی سولر پالیسی سے عام بجلی صارفین کو فائدہ ہوگا یا نقصان؟
پی ٹی آئی کے ترجمان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت ایک جانب سولر صارفین سے بجلی کم نرخ پر خریدنے کی تیاری کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب وہی بجلی کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کی جائے گی۔
’یہ پالیسی دراصل سورج کی روشنی پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔ کیا اپنی چھت پر سولر پینل لگانا اب جرم بن چکا ہے؟‘
ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ سولر توانائی ملک میں سستی اور صاف بجلی کا ذریعہ بن رہی تھی اور اس سے صارفین کو خود کفالت کی طرف بڑھنے کا موقع ملا۔ ت
مزید پڑھیں: سولر نیٹ میٹرنگ صارفین سے 18 فیصد سیلز ٹیکس کیسے وصول کیا جائے گا؟
اہم نئی پالیسی کے ذریعے اس رجحان کو دانستہ طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ توانائی کے شعبے میں موجود مہنگے معاہدوں کو بچانے کے لیے سولر صارفین کو بددل کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں دوبارہ مہنگے گرڈ سسٹم پر انحصار کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
پی ٹی آئی کے مطابق یہ فیصلہ محض ایک تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں توانائی کے شعبے کی بدانتظامی اور نااہلی کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
’سولر پالیسی کے نام پر عوام سے 250 ارب روپے وصول کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔‘
مزید پڑھیں: گھریلو سولر پینل کا متبادل کیا اور کتنا کارآمد ہے؟
بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نئی پالیسی پر فوری نظرِ ثانی کی جائے، نیٹ میٹرنگ اور سولر سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بحال کیا جائے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں۔
پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر ہر فورم پر آواز بلند کرے گی اور اسے معاشی ناانصافی قرار دیتے ہوئے عوامی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔














