بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور جولائی نیشنل چارٹر کے نفاذ سے متعلق ریفرنڈم کے پُرامن اور منظم انعقاد پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے عوام، اداروں اور متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مسلح افواج دیانتدار رہیں تو ملک کو اچھا الیکشن ملے گا، امیرِ جماعت اسلامی
ووٹنگ کے اختتام کے بعد اپنے بیان میں پروفیسر محمد یونس نے عوام کی پُرجوش شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں نے اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور انتخابی عمل سے وابستہ اداروں کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔
https://x.com/ChiefAdviserGoB/status/2021809091899977746
چیف ایڈوائزر نے الیکشن کمیشن، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مسلح افواج، سول انتظامیہ، مبصر مشنز، میڈیا نمائندگان اور انتخابی عملے کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور لگن نے اس بڑے جمہوری عمل کو کامیاب بنایا۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر زور دیا کہ حتمی نتائج کے اعلان کے بعد بھی جمہوری روایات، برداشت اور باہمی احترام کو برقرار رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے فطری امر ہے، تاہم قومی مفاد میں اتحاد کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:طارق رحمان کا انتخابی نتائج فوری جاری کرنے کا مطالبہ، دھاندلی کی صورت میں نتائج مسترد کرنے کا انتباہ
پروفیسر یونس نے کہا کہ بنگلہ دیش نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ حکومت ایک زیادہ جوابدہ، جامع اور منصفانہ ریاست کے قیام کے لیے کام جاری رکھے گی۔
انہوں نے اس انتخابی عمل کو قومی جشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ کے پُرامن اور پُروقار ترین انتخابات میں سے ایک تھا۔ ان کے مطابق اگر یہی مثبت رجحان برقرار رہا تو بنگلہ دیش کی جمہوریت نئی بلندیوں کو چھوئے گی۔












