وزیراعظم شہباز شریف 19 فروری کو واشنگٹن میں منعقد ہونے والے بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب اہم قدم
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں منعقد ہوگا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے تاہم دورہ امریکا کی حتمی تاریخ اور وفد کے دیگر اراکین سے متعلق تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
بورڈ آف پیس کا قیام اور پاکستان کی شمولیت
صدر ٹرمپ نے 22 جنوری کو ڈیووس میں بورڈ آف پیس کا باضابطہ آغاز کیا تھا جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کیے تھے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے اس فورم میں نیک نیتی سے شمولیت اختیار کی ہے اور وہ تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
ان کے مطابق پاکستان اس پلیٹ فارم پر تنہا شریک نہیں بلکہ 8 اسلامی اور عرب ممالک کی مشترکہ آواز کے طور پر موجود ہے۔
مزید پڑھیے: سعودی کابینہ نے غزہ بورڈ آف پیس کی حمایت کردی، امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا خیرمقدم
انہوں نے بتایا کہ غزہ اور مغربی کنارے کی صورت حال پر 2 مشترکہ بیانات بھی جاری کیے جا چکے ہیں اور اجتماعی موقف کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
فلسطین کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک طویل المدتی حل کا حامی ہے جس کی بنیاد سنہ 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر ہو اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔
ان کے مطابق پاکستان کی شمولیت کا مقصد فلسطینی عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات کی حمایت کرنا ہے۔
بورڈ آف پیس کیا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ستمبر 2025 میں غزہ جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے دوران بورڈ آف پیس کا ذکر کیا تھا۔
مزید پڑھیں: یو اے ای اور پاکستان کے بعد ترکیہ کا بھی ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کا فیصلہ
ابتدا میں اسے غزہ میں جنگ بندی اور تعمیر نو کی نگرانی کے لیے ایک فورم سمجھا جا رہا تھا تاہم بعد ازاں واضح کیا گیا کہ یہ پلیٹ فارم دیگر عالمی تنازعات کے حل کے لیے بھی کام کرے گا۔
اگرچہ اس کے مجوزہ چارٹر میں غزہ کا براہِ راست ذکر نہیں تاہم امریکا نے وضاحت کی ہے کہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کی جگہ لینا نہیں بلکہ عالمی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔
بورڈ کی ساخت اور اختیارات اور 3 ارب ڈالر
بورڈ کی رکنیت 3 سال کے لیے ہوگی تاہم ایک ارب ڈالر کی شراکت دینے والا ملک مستقل رکن بن سکے گا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ابتدائی ایگزیکٹو ٹیم میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف، برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔
نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ کے لیے سنہ 2027 تک اس بورڈ کی منظوری دی تھی۔
قرارداد کے تحت بورڈ کو غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک تیار کرنے، فنڈنگ منظم کرنے اور عارضی بین الاقوامی سیکیورٹی فورس بھیجنے کی اجازت دی گئی ہے۔
بورڈ کو ہر چھ ماہ بعد سلامتی کونسل کو پیش رفت رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔ تاہم غزہ سے باہر اس کے قانونی اختیارات اور عالمی اداروں کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، صدر ٹرمپ
بورڈ کے منشور کے مطابق چیئرمین، یعنی ڈونلڈ ٹرمپ، کو فیصلوں کو روکنے اور ارکان کو ہٹانے سمیت وسیع اختیارات حاصل ہوں گے اگرچہ ان کے استعمال کے لیے مخصوص شرائط رکھی گئی ہیں۔
کتنے ممالک شریک ہوں گے؟
وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق تقریباً 50 دعوت ناموں میں سے اب تک 35 عالمی رہنماؤں نے شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ پاکستان کی شمولیت کا مقصد مستقل جنگ بندی، انسانی امداد، غزہ کی تعمیر نو اور مقررہ مدت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرنا ہے جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت القدس الشریف ہو۔
کن ممالک نے شرکت سے گریز کیا؟
چند یورپی ممالک اور بعض روایتی امریکی اتحادی اس بورڈ میں شمولیت سے محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط پر بھی مختلف ردعمل سامنے آیا ہے۔
ناروے اور سویڈن نے دعوت قبول نہیں کی جبکہ اٹلی نے کہا ہے کہ اس فورم میں شمولیت مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
کینیڈا نے اصولی رضامندی ظاہر کی ہے تاہم تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ ایڈوائزری پینل کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا
برطانیہ، جرمنی اور جاپان جیسے اہم اتحادی ممالک کی جانب سے تاحال کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔














