برطانوی شہزادے ہیری، جو بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے سرگرم رہ چکے ہیں، امریکی میں مقیم برطانوی خاندانوں سے ملاقات کے دوران جذباتی ہو گئے۔
بی بی سی بریک فاسٹ کی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ وہ آنسو روکنے کی کوشش کر رہے تھے، کیونکہ ملاقات میں ایسے والدین موجود تھے جن کے بچے سوشل میڈیا کے استعمال کے نتیجے میں ذہنی دباؤ، سائبر بُلنگ یا دیگر منفی اثرات کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی ولی عہد ولیئم اپنے چھوٹے بھائی پرنس ہیری کو وراثت سے محروم کروانے کے لیے کوشاں
ہیری نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیز جیسے یوٹیوب اور انسٹاگرام کے خلاف امریکا میں مقدمات شروع ہورہے ہیں، اور اس موقع پر انہوں نے خود برطانیہ میں جاری اپنے قانونی کیس کا حوالہ دیا تاکہ متاثرہ والدین کو حوصلہ دے سکیں۔
انہوں نے کہا، ’ہم نے بار بار کہا ہے کہ یہ ڈیوڈ بمقابلہ گولیات جیسی صورتحال ہے۔ میں خود کچھ ایسے ہی حالات میں رہا ہوں۔‘
پرنس ہیری نے مزید کہا، ’لیکن جب آپ عدالت میں بیٹھے ہوں اور جذبات آپ پر حاوی ہوں کیونکہ آپ یقین نہیں کرسکتے کہ دوسری جانب لوگ جو کہہ رہے ہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں، اور وہ جو دفاع کررہے ہیں، جو جھوٹ بول رہے ہیں وہ زندگی اور آپ کے بچوں کی قدر کو کم کررہا ہے، تو یہ جذبات کا ظاہر ہونا بالکل معمولی بات ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: 19 ماہ بعد کنگ چارلس سے ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں؟ پرنس ہیری نے تفصیل بتادی
انہوں نے والدین کو تسلی دیتے ہوئے کہا ’وہ شرمندہ محسوس نہ کریں، فکر نہ کریں، حتیٰ کہ اگر جج نے کہا کہ جذبات کا اظہار نہ کریں، تب بھی یہ بالکل انسانی اور فطری ہے۔‘













