پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار علی خان نے ڈرامہ انڈسٹری میں اسکرپٹ کے معیار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہانیوں میں یکسانیت اور غیر منطقی کردار نگاری سے تخلیقی معیار متاثر ہو رہا ہے۔
ایک حالیہ گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ ایک ڈرامہ ’میری زندگی ہے تو‘ کر رہے ہیں جس میں ان کا کردار ڈاکٹر کا ہے لیکن ڈرامے میں ان کے کردار کی پیشہ ورانہ زندگی کو پیش نہیں کیا گیا۔
View this post on Instagram
ان کا کہنا تھا کہ پورا ڈرامہ گزر گیا لیکن میں کلینک نہیں گیا۔ میرا کام کچن اور گھر کے معاملات سنبھالنا تھا تو میں نے ڈائریکٹر سے سوال کیا کہ یہ کردار ڈاکٹر کا ہے یا بنیےکا؟ وہ صرف شادی کی بات کر رہا ہے اور ڈائری میں پھولوں کا حساب کتاب کر رہا ہے۔ یہ کتنی بےوقوفی ہے لیکن اگر اسے پوری دنیا میں لوگ سراہ رہے ہیں تو کون ٹھیک ہے ڈائریکٹر یا اداکار؟
اداکار نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انہوں نے تین ڈراموں میں کام کیا اور تینوں کی کہانیاں ایک جیسی محسوس ہوئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ روایتی موضوعات سے ہٹ کر نئے زاویوں پر مبنی کہانیاں پیش کی جائیں مثلاً والدین کی جانب سے بچوں کی شادی کرانے کے بجائے بچے والدین کی شادیاں کرائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈرامہ انڈسٹری میں اسکرپٹ کے معیار پر توجہ دینے کے بجائے کمرشل اپیل کو ترجیح دینے کا بڑھتا ہوا رجحان تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر رہا ہے جس کے باعث معیاری اور منفرد کہانیوں کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔














