امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر وہ جوہری معاہدہ کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے ’انتہائی شدید‘ نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے معیار پر شکوک کا اظہار کیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے ایک دن بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات اگلے ماہ تک نتیجہ خیز ہوں گے۔
’ہمیں معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ اس کے شدید نتائج بھگتنا ہوں گے، میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن ہمیں معاہدہ کرنا ہوگا۔۔۔یہ ایران کے لیے بہت شدید ہوگا اگر وہ معاہدہ نہ کریں۔‘
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران جوہری مذاکرات میں بڑی پیشرفت، ایرانی صدر نے اہم ہدایات جاری کردیں
امریکا ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ میں دوسرا ایئرکرافٹ کیریئر بھی بھیجنے پر غور کر رہاہے، صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران تہران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فوجی حملوں کا بھی حوالہ دیا۔
’ہم دیکھیں گے کہ کیا ہم ان کے ساتھ معاہدہ کر سکتے ہیں، اور اگر نہیں، تو ہمیں دوسرا مرحلہ اپنانا ہوگا، دوسرا مرحلہ ان کے لیے بہت سخت ہوگا۔‘
Trump says his goal is to halt Iran's nuclear weapons program, but didn’t he boast that in June he had bombed Iran's nuclear facilities back to the stone age? Iran has an edict against nukes, and the NYT just reported that Western intel saw no evidence Iran was building a bomb.… pic.twitter.com/M2SNtRSXUZ
— Alan Watson (@DietHeartNews) February 13, 2026
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوصدر ٹرمپ پر ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں خاص طور پر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو شامل کرنے کے لیے سخت رویہ اپنانے کا دباؤ ڈالنے کی غرض سے واشنگٹن آئے تھے۔
تاہم دونوں رہنما واضح طور پر متفق نہیں ہوئے، اور وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دی ہےا۔
عام شکوک و شبہات
جمعرات کو اسرائیل روانگی سے پہلے نیتن یاہو نے کہا کہ ٹرمپ کا خیال ہے کہ وہ معاہدے کے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
’وہ سمجھتے ہیں کہ جو شرائط وہ قائم کر رہے ہیں، اور یہ کہ ایران کو پچھلی بار غلطی کا ادراک ہے، ممکنہ طور پر ایک اچھے معاہدے کے لیے حالات پیدا کر سکتی ہیں۔‘
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ وہ چھپائیں گے نہیں کہ انہوں نے ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے معیار پر عمومی شکوک کا اظہار کیا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ کسی بھی معاہدے میں وہ عناصر شامل ہونا ضروری ہیں جو اسرائیل کے لیے اہم ہیں، جیسے ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور فلسطینی تحریک حماس، یمن کے حوثی باغیوں اور لبنان میں حزب اللہ کی حمایت۔
مزید پڑھیں: ’امریکا ایران کی طاقت کو سمجھنے میں ناکام‘
ان کے مطابق، یہ صرف جوہری مسئلہ نہیں ہے۔
ایران پر اختلافات کے باوجود ٹرمپ نے نیتن یاہو کی ذاتی حمایت کا اظہار کیا اور اسرائیلی صدر آئزک ہیرزوگ پر تنقید کی کہ انہوں نے بدعنوانی کے الزامات میں نیتن یاہو کی معافی کی درخواست مسترد کر دی۔
’آپ کے پاس ایک صدر ہے جو معافی دینے سے انکار کرتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس شخص کو اپنی شرمندگی محسوس ہونی چاہیے۔‘
ٹرمپ نے حالیہ مہینے میں ایران پر ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے اشارے دیے ہیں، حالانکہ واشنگٹن اور تہران نے حال ہی میں عمان میں مذاکرات دوبارہ شروع کیے ہیں۔
اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان آخری مذاکرات اسرائیل کی جنگ اور امریکی حملوں کی وجہ سے مختصر ہو گئے تھے۔
ایران نے نئے مذاکرات کو اپنے جوہری پروگرام سے آگے بڑھانے کی پیشکش مسترد کر دی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا اور ’زیادہ مطالبات‘ تسلیم نہیں کرے گا۔












