وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں منعقدہ ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کی تاریخ میں شاید پہلی بار کسی وزیراعلیٰ نے ہیلتھ سیکٹر سے وابستہ افراد کے ساتھ ون آن ون نشست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں صحت کے شعبے کو نظر انداز کیا گیا، جس کی وجہ سے یہ مسائل کا گڑھ بن گیا، تاہم موجودہ حکومت اس شعبے کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں پہلا سرکاری آٹزم سینٹر قائم، خصوصی بچوں کے لیے عالمی معیار کی سہولتیں میسر: مریم نواز
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پنجاب کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی ہیلتھ کانفرنس ہے، کیونکہ اس سے پہلے کسی صوبے کے وزیراعلیٰ نے اپنی ٹیم کے ساتھ براہِ راست تبادلہ خیال نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شاید یہی وجہ ہے کہ ہیلتھ سیکٹر میں مسائل بڑھتے گئے اور اصلاح کا عمل سست روی کا شکار رہا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ صحت کے نظام کو بہتر بنانا آسان کام نہیں، لیکن حکومت اس چیلنج کو قبول کر چکی ہے اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پنجاب میں 10 ہزار 350 بچوں کی ہارٹ سرجریز مکمل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے کئی بچے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد بچے شدید علیل حالت میں سرجری کے انتظار میں تھے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں کھیلوں کا انقلاب: مریم نواز کا اسپورٹس سٹی بنانے اور 2026 کو یوتھ کا سال قرار دینے کا اعلان
مریم نواز کے مطابق موجودہ حکومت نے اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دی اور بڑے پیمانے پر بچوں کے دل کے آپریشنز کروا کر ہزاروں قیمتی جانیں بچائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب میں صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا تاکہ کسی مریض کو علاج کے لیے انتظار یا محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم میں کمی ہوسکتی ہے، اس سے کوئی مرتا نہیں ہے، کسی کو بازار جانے کے لیے سواری نہ ملے تو اس سے بھی کوئی مرتا نہیں ہے، اگر میٹروبسیں یا اور کچھ نہ ہوتو اس سے کوئی مرتا نہیں ہے، لیکن اگر ہیلتھ سیکٹر میں کوئی اونچ نیچ ہوجائے تو لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، وہ ایک زندگی نہیں پورے خاندان کا نقصان ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں پہلا سرکاری آٹزم سینٹر قائم، خصوصی بچوں کے لیے عالمی معیار کی سہولتیں میسر: مریم نواز
ان کا کہنا ہے تو کتنے لوگ ہیں جو ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، کتنے لوگ ہیں جو علاج اور اپنی سلامتی کے لیے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، اگر کسی کو اچھا علاج نہیں ملتا اور وہ سسک کرمرتا ہے تو وہ صرف میری اور ہیلتھ منسٹر کی ناکامی نہیں ہم سب کی ناکامی ہوگی۔
مریم نواز نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ بعض ہسپتالوں میں مریضوں کو دوائیاں اسپتال میں ہونے کے باوجود باہر خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ فارماسسٹ اور لیبز کی ساز باز کی وجہ سے غریب لوگ سخت مشکلات میں آتے ہیں۔ ساہیوال کے چلڈرن وارڈ میں آگ کا واقعہ میری آنکھوں کے سامنے تھا، جس نے اسپتال کے فلاز واضح کردیے۔
انہوں نے کہا کہ جب ایک ڈائبیٹک کو انسولین نہیں ملتی تو اس کی شوگر خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے اور بیماری کی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔ کرپشن کی وجہ سے عوام کی دوائیاں غائب ہوجائیں تو یہ زندگیاں خطرے میں ڈالتی ہے۔ یہ ذمہ داری مقدس ہے اور خیانت کرنے والا نہ دنیا میں محفوظ رہتا ہے نہ آخرت میں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں کھیلوں کا انقلاب: مریم نواز کا اسپورٹس سٹی بنانے اور 2026 کو یوتھ کا سال قرار دینے کا اعلان
ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی میں مریضوں کو صحیح بیز میں بھیجنا جان بچانے کے لیے ضروری ہے۔ ریڈ بیز میں انتہائی سنگین مریض، یلو بیڈ میں وہ جو کچھ دیر انتظار کر سکتے ہیں اور گرین بیز میں معمولی کیسز رکھے جائیں۔ ہر مریض کو فوری اور درست توجہ ملے تاکہ کسی کی جان ضائع نہ ہو۔













