وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت اور آنکھ کے مسئلے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے الزامات حقیقت کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں تمام طبی سہولیات موجود ہیں اور کسی بھی قیدی کی صحت کی دیکھ بھال متعلقہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آنکھ کا مسئلہ یا کچھ اور؟ عمران خان کو پمز اسپتال لانے کے بعد کیا کچھ ہوتا رہا؟
وزیر مملکت نے حکومت کے اقدامات کی تفصیل اور ریکارڈ پر موجود حقائق پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے معاملے پر سیاست کرنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا۔
سینیٹ میں عمران خان کی صحت پر بحث
طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر اور حکومتی اراکین نے عمران خان کی صحت کے معاملے پر گفتگو کی۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی قیدی کی صحت کی دیکھ بھال متعلقہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اڈیالہ جیل کی انتظامیہ اور طبی عملہ ہر قیدی، بشمول عمران خان کے چیک اپ اور علاج کے لیے ذمہ دار ہے۔ وزیر مملکت نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی قیدی کی صحت کی دیکھ بھال میں غفلت ہوئی تو متعلقہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔
اکتوبر سے علاج نہ ہونے کا دعویٰ اور حقیقت
پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کو اکتوبر سے آنکھ کی تکلیف تھی اور انہیں علاج کی سہولت میسر نہیں ہوئی۔ طارق فضل چوہدری نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ دعویٰ درست ہوتا تو اسے مجرمانہ غفلت قرار دیا جاتا۔ تاہم ریکارڈ اس دعوے کی تائید نہیں کرتا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ حقیقی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں اور حکومت نے بروقت اور مناسب اقدامات کیے ہیں۔
2 دسمبر کی ملاقات اور ریکارڈ
وزیر مملکت نے بتایا کہ 2 دسمبر کو عمران خان کی بہن نے ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے میڈیا کے سامنے کہا کہ عمران خان کی صحت الحمدللہ بہتر ہے اور اس دوران آنکھ کی کسی تکلیف کا ذکر نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے حوالے سے 4 ماہ کی غفلت کا دعویٰ بے بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر سے علاج نہ ہونے کے دعوے میں حقیقت نہیں ہے۔
میڈیکل بورڈ اور پمز منتقلی
طارق فضل چوہدری نے مزید وضاحت کی کہ دو دسمبر کے بعد عمران خان کے میڈیکل بورڈ نے ان کی صحت کا جائزہ لیا۔ 16 جنوری کو جیل میں موجود آنکھ کے ڈاکٹرز نے معائنہ کیا اور سفارش کی کہ عمران خان کو آنکھ کے مزید چیک اپ کے لیے پمز اسپتال منتقل کیا جائے کیونکہ وہاں جدید طبی سہولیات موجود ہیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ یہ بھی ریکارڈ پر ہے اور علاج کے تمام اقدامات بروقت کیے گئے۔
سیاسی اختلافات، ذاتی دشمنی نہیں
وزیر مملکت نے کہا کہ عمران خان سے حکومت کا تعلق صرف سیاسی اختلافات پر مبنی ہے، ذاتی دشمنی نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح ہر قیدی کی صحت کی دیکھ بھال ہے اور اس معاملے پر سیاست کرنا غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی اقدام ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:خواجہ سعد رفیق کا عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار، حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ
وزیر مملکت نے زور دیا کہ تمام الزامات کو فیکٹس کی بنیاد پر دیکھا جائے اور سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔













