عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

جمعہ 13 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت اور آنکھ کے مسئلے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے الزامات حقیقت کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں تمام طبی سہولیات موجود ہیں اور کسی بھی قیدی کی صحت کی دیکھ بھال متعلقہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آنکھ کا مسئلہ یا کچھ اور؟ عمران خان کو پمز اسپتال لانے کے بعد کیا کچھ ہوتا رہا؟

وزیر مملکت نے حکومت کے اقدامات کی تفصیل اور ریکارڈ پر موجود حقائق پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے معاملے پر سیاست کرنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا۔

سینیٹ میں عمران خان کی صحت پر بحث

طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر اور حکومتی اراکین نے عمران خان کی صحت کے معاملے پر گفتگو کی۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی قیدی کی صحت کی دیکھ بھال متعلقہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اڈیالہ جیل کی انتظامیہ اور طبی عملہ ہر قیدی، بشمول عمران خان کے چیک اپ اور علاج کے لیے ذمہ دار ہے۔ وزیر مملکت نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی قیدی کی صحت کی دیکھ بھال میں غفلت ہوئی تو متعلقہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

اکتوبر سے علاج نہ ہونے کا دعویٰ اور حقیقت

پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کو اکتوبر سے آنکھ کی تکلیف تھی اور انہیں علاج کی سہولت میسر نہیں ہوئی۔ طارق فضل چوہدری نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ دعویٰ درست ہوتا تو اسے مجرمانہ غفلت قرار دیا جاتا۔ تاہم ریکارڈ اس دعوے کی تائید نہیں کرتا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ حقیقی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں اور حکومت نے بروقت اور مناسب اقدامات کیے ہیں۔

2  دسمبر کی ملاقات اور ریکارڈ

وزیر مملکت نے بتایا کہ 2 دسمبر کو عمران خان کی بہن نے ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے میڈیا کے سامنے کہا کہ عمران خان کی صحت الحمدللہ بہتر ہے اور اس دوران آنکھ کی کسی تکلیف کا ذکر نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے حوالے سے 4 ماہ کی غفلت کا دعویٰ بے بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر سے علاج نہ ہونے کے دعوے میں حقیقت نہیں ہے۔

میڈیکل بورڈ اور پمز منتقلی

طارق فضل چوہدری نے مزید وضاحت کی کہ دو دسمبر کے بعد عمران خان کے میڈیکل بورڈ نے ان کی صحت کا جائزہ لیا۔ 16 جنوری کو جیل میں موجود آنکھ کے ڈاکٹرز نے معائنہ کیا اور سفارش کی کہ عمران خان کو آنکھ کے مزید چیک اپ کے لیے پمز اسپتال منتقل کیا جائے کیونکہ وہاں جدید طبی سہولیات موجود ہیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ یہ بھی ریکارڈ پر ہے اور علاج کے تمام اقدامات بروقت کیے گئے۔

سیاسی اختلافات، ذاتی دشمنی نہیں

وزیر مملکت نے کہا کہ عمران خان سے حکومت کا تعلق صرف سیاسی اختلافات پر مبنی ہے، ذاتی دشمنی نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح ہر قیدی کی صحت کی دیکھ بھال ہے اور اس معاملے پر سیاست کرنا غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی اقدام ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:خواجہ سعد رفیق کا عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار، حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

وزیر مملکت نے زور دیا کہ تمام الزامات کو فیکٹس کی بنیاد پر دیکھا جائے اور سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج پر بھی تقسیم، فیملی اور مختلف رہنماؤں کی الگ الگ ٹولیاں

مصنوعی ذہانت نے اختلافی مضمون لکھ کر شائع بھی کردیا، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستان اور چین کا فوری جنگ بندی پر زور، امن کے لیے 5 نکات پیش کردیے

امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، طاہر اشرفی

پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں، وزیراعظم کی ہدایت

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا