لندن کی ہائیکورٹ نے جمعہ کو برطانیہ کی اس پابندی کو غیر قانونی قرار دیا جس میں فلسطینی حمایت کرنے والے ’فلسطین ایکشن گروپ‘ کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، پابندی عارضی طور پر برقرار رہے گی اور حکومت نے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی فلسطین کے لیے 29ویں امدادی کھیپ روانہ، 100 ٹن خوراک لاہور سے بھیجی گئی
ہائیکورٹ کی جسٹس وکٹوریا شارپ نے کہا کہ فلسطین ایکشن گروپ ایک ایسا گروپ ہے جو اپنے سیاسی مقصد کو جرم اور جرائم کو بڑھاوا دے کر حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن عدالت نے پابندی کو اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی میں غیر مناسب مداخلت قرار دیا۔
BREAKING: The British government's ban on pro-Palestinian campaign group Palestine Action as a terrorist organization is unlawful, London's High Court ruled after a legal challenge by the group's co-founder https://t.co/7S0IE6Syyo pic.twitter.com/rW5a6H7EKs
— Reuters (@Reuters) February 13, 2026
فی الحال پابندی برقرار رہے گی، یعنی گروپ کی حمایت ظاہر کرنا اب بھی جرم ہے اور ممبر بننے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ برطانوی وزیر شبانہ محمود نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف کورٹ آف اپیل میں لڑائی جاری رکھیں گی۔
فلسطین ایکشن گروپ کیا ہے؟
فلسطین ایکشن گروپ جولائی 2020 میں قائم ہوا اور خود کو اس مہم کا حصہ قرار دیتا ہے جو اسرائیل کے نسل کش اور اپارتھائیڈ نظام میں عالمی شرکت ختم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ گروپ نے اسرائیل کے لیے ہتھیار بنانے والی کمپنیوں جیسے Elbit Systems (اسرائیل)، Leonardo (اٹلی)، Thales (فرانس) اور Teledyne (امریکہ) کے خلاف مداخلت اور احتجاجی کارروائیاں کی ہیں۔

2022 میں گروپ نے گلاسگو میں Thales کی فیکٹری میں داخل ہو کر ہتھیاروں کو نقصان پہنچایا جس کی مالیت ایک ملین پاؤنڈ سے زیادہ تھی۔ 2021 میں گروپ کے اراکین نے Leicester میں Elbit Systems کی چھت پر چھ دن تک احتجاج کیا، جس کے بعد کئی افراد گرفتار ہوئے۔
Elbit Systems نے بتایا کہ ان کے ڈرون، جو غزہ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوئے، اسرائیل کے ڈرون بیڑے کی بنیاد ہیں اور فلسطینی شہریوں کو ہلاک کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔












