میں گزشتہ اکتوبر میں بنگلہ دیش کے دورے پر تھا۔ اس دوران مختلف شہروں میں میرے میزبان وہ لوگ تھے، جنہیں آج کل ’جنریشن زی‘ یعنی نوجوان کہا جاتا ہے۔ مختلف سماجی تنظیموں سے وابستہ یہ نوجوان مجھے نہ صرف ذہین لگے بلکہ یہ بڑوں کا ادب کرنے والے بے حد محبتی لڑکے تھے۔ان میں سے کئی لوگ واضح طور پر جماعت اسلامی کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے، حالانکہ سیاست پر گفتگو سے گریز کرتے تھے مگر وہ جو کہتے ہیں کہ بین السطور میں کیا کہا جا رہا ہے؟ میں یہاں اس کی بات کر رہا ہوں۔
بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی جیت گئی ہے اور جماعت اسلامی نے دوسرے نمبر پر ووٹ لیے ہیں۔ ان دونوں سیاسی پارٹیوں میں جیتنے والے افراد میں یکساں بات یہ دیکھنے میں آرہی ہے کہ ان کے نوجوان امیدوار(جین زی کے نمائندے) بھی جیت کر ایوان اقتدار میں پہنچے ہیں۔ اور یہ بے حد خوش آئند بات ہے کہ حسینہ واجد کا تختہ الٹ کر انہیں ملک بدر ہونے پر مجبور کرنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد عوامی نمائندگی کرنے والی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی اس لیے نہیں ہاری کہ وہ کمزور تھی بلکہ اس نے پہلے کے مقابلے میں عوام میں اپنی سیاسی حیثیت منوائی ہے اور کافی بہتر پرفارم کیا ہے۔ مگرحالیہ انتخابات میں لبرل جین زی کا بیانیہ نمایاں نظر آرہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’لڑکی لیزنگ پر لے لو‘
ہمارے دوست معروف تفتیشی رپورٹر عظمت خان بنگلہ دیش کے عام انتخابات کا مشاہدہ کرنے ڈھاکہ گئے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی ایک پوسٹ میں کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے یہ الیکشن جہاں دیگر خصوصیات کے حامل ہیں، وہاں ایک دلچسپ صورتحال یہ بھی پیدا ہوئی ہے کہ ’ممولے کا مقابلہ شہباز سے‘ ہوا ہے۔جیسے بی اینپی کے امیدوار برائے حلقہ 8 ڈھاکہ 77 سالہ سیاست دان مرزا عباس کے مقابلے میں جماعت اسلامی الائنس کے امیدوار27 سالہ نوجوان نصیر الدین پٹواری کھڑے تھے اور ان کی ریلیاں اور نوجوانوں میں اپنے ہم عمر امیدوار کی پسندیدگی نمایاں ہے مگر وہ نوجوان بدقسمتی سے ہار گئے ہیں۔
اس کے علاوہ اس الیکشن سے یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ 73 فیصد عوام نے اصلاحات کی حمایت کی ہے، جس کا مطلب ہے جین زی کا نعرہ متاثر کن بہرحال ثابت ہوا ہے۔
دوسری جانب 1991 میں جماعت اسلامی نے 18 نشستیں حاصل کی تھیں، جس کے بعد عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ واجد نے جماعت کی صفِ اول کی قیادت کو پھانسیاں دی تھیں یا کچھ رہنماؤں کو اسپتالوں میں مروا دیا تھا، لیکن 13 سال بعد ہونے والے انتخابات میں جماعت کی ان قربانیوں کے باوجود، وہاں بی این پی نے واضح برتری حاصل کرلی ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس جماعت کو اس کی سربراہ خالدہ ضیا کی موت کے باعث ’ہمدردی کا ووٹ‘ ملا ہے۔ مگر اس کے باوجود بی این پی نے 300 نشستوں کے ایوان میں 213 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔خواتین کی 50 نشستیں اضافی ہوتی ہیں، جنہیں متناسب طور پر منتخب اراکین منتخب کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی 77سیٹیں حاصل کر پائی ہے۔ مگر اس تحریر کے لکھے جانے تک نتائج کا مکمل اعلان نہیں ہوا تھا۔ اس کے باوجودوہ تجزیات غلط ثابت ہوچکے ہیں جو گزشتہ کچھ ماہ سے سامنے آرہے تھے کہ حسینہ واجد کے جانے کے بعد بنگلہ دیش میں اگلی حکومت جماعت اسلامی بنائے گی۔
انتخابات کے غیر سرکاری، غیر حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان (جنہیں وہاں پیار سے ’دادو‘ کہا جاتا ہے) انہوں نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی ایوان میں مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔
بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق 12کروڑ 76 لاکھ 96 ہزار 185 افراد الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جن میں 6 کروڑ 48 لاکھ 14 ہزار 464 مرد، 6 کروڑ 28 لاکھ 79 ہزار 42 خواتین اور 2 ہزار 341 ووٹرز تیسری صنف (خواجہ سرا) ہیں۔یہ ترمیم شدہ ووٹر لسٹ تازہ ہے جو جنوری 2026 ءمیں شائع کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:حسن کیا ہے؟
مرحومہ خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی کا سربراہ، ان کا بیٹا طارق رحمان ہے۔ ملک کی اس نئی حکمراں پارٹی کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کے لیے جماعت اسلامی نے دیگر سیاسی پارٹیوں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور بنگلہ دیش لیبر پارٹی وغیرہ کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا تھا۔ رپورٹس کے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیدواروں میں سے 80فیصد نئے امیدوار تھے، جنہیں ان انتخابات سے پہلے کبھی ملکی سطح پر یعنی قومی ایوان کا انتخاب لڑنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اور آزاد تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت اسلامی کی شکست کے پیچھے اس امر کا کردار بھی رہا ہے۔ کیوں کہ ان نئے امیدواروں کے مقابلے میں بی این پی کے گھاگ اور تجربہ کار امیدوار میدان میں اترے ہوئے تھے۔ اس حوالے سے جماعت کی قیادت کا مؤقف ہے کہ پارٹی نے جان بوجھ کر نوجوان قیادت کو ان انتخابات میں ٹکٹ دے کر لڑنے کا موقع دیا تاکہ ملکی سیاست اور اقتدار میں نیا خون شامل ہو اور آئندہ کے لیے نئی قیادت بھی جنم لے سکے۔ اس کے علاوہ جماعت کی قیادت کا یہ بھی خیال تھا کہ وہ چوںکہ جولائی انقلاب کی علم بردار ہے، اس لیے اسے ’اسٹیبلشمنٹ‘ کی پارٹیوں یعنی بی این پی اور عوامی لیگ کا مقابلہ کرکے ملک کو متبادل قیادت فراہم کرنا چاہیے۔
معروف تجزیہ کار صلاح الدین کے مطابق جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی دیگر جماعتوں کی بہ نسبت پُروقار اور بدعنوانی سے پاک پارٹی سمجھی جاتی ہے، جس کے رہنماؤں نے جانوں کی قربانیاں بھی دی ہیں۔ اسی تناظر میں بی بی سی کے مطابق بہت سے نوجوان ووٹروں نےاس مذہبی پارٹی کی حسینہ واجد کے خلاف جدوجہد کے باعث اس کے 1971 کے اس مؤقف کو بھی نظر انداز کردیا۔ نارتھ ساؤتھ یونیورسٹی کے پروفیسر توفیق حق کے مطابق جین زی نے جماعت اسلامی کو حسینہ واجد حکومت کا شکار سمجھتے ہوئے اس سے ہمدردی کا اظہار تو کیا مگر ووٹ دے کر اسے ایوان اقتدار میں نہیں پہنچایا۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے اس الیکشن کے لیے اپنے منشور میں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور طلبہ کے لیے بلاسود قرضے دینے، سرکاری ملازمین کے لیے یکساں بنیادوں پر اسمارٹ سوشل سیکیورٹی کارڈ متعارف کرانے، ایک کروڑ نوجوانوں کو تربیت دینے، ملکی معیشت میں 15 لاکھ نئے کاروباری افراد شامل کرنے، اگلے پانچ سال میں پانچ لاکھ نئے فری لانسرز پیدا کرنے، صارفین کو ٹیکسوں میں چھوٹ دینے، بند صنعتوں کو پبلک اینڈ پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کھولنے،3 سال کے لیے صنعتی یوٹیلٹی ٹیرف کو فریز کرنے اور بچوں اور بوڑھوں کے لیے مفت علاج کی سہولیات مہیا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر سیف الاسلام کے مطابق حالیہ انتخابات میں حصہ لینے والی پارٹیوں کے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر مس انفارمیشن کی منظم مہم چلا کر اپنی جماعتوں کو فائدہ پہنچانے کی بھی کوششیں کیں۔ اس مہم میں مختلف سیاسی رہنماؤں کے بیانات کو توڑ مروڑ کے اپنی مرضی کے مطابق پھیلایا گیا۔یہاں تک کہ مخالف امیدواروں اور رہنماؤں سے غلط اور من گھڑت بیانات، بلکہ انٹرویوز تک ’تیار‘ کرکے پھیلائے گئے۔ امریکا کے Center for the Study of Organized Hateنے اس حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اگست 2025 سے فروری 2026 تک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایسی 7 لاکھ سے زائد پوسٹیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے 17 ہزار اکاؤنٹس کے ذریعے پبلش کی گئیں۔اس مہم کے لیے بنگلہ دیش، بھارت، امریکا، کینیڈا اور یورپ کے کئی ملکوں میں سرگرم ہندو نیشنلسٹ نیٹ ورکس کی جانب سے بھی ’تعاون‘ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:100 ارب سپر کمپیوٹرز کے برابر انسانی ذہن کے ارتقا، استعمال اور مغالطوں کا احوال
بی بی سی بنگلہ کے مطابق بنگلہ دیش کے انتخابات کے لیےسیاسی جماعتوں کی جانب سے ڈھائی سو کے لگ بھگ نئے ترانے اور گانے بھی ریلیز کیے گئے جو ملک بھر میں انتخابی مہم کے دوران گونجتے رہے۔ اس کے علاوہ انتخابات کے موضوع پر ایک ٹی وی ڈراما ’ڈھاکہ 26‘ بھی ٹیلی کاسٹ کیا گیا، جسے ایشا رحمان نے اشتیاق احمد کی ڈائریکشن میں پیش کیا۔
بہرحال برادر ملک بنگلہ دیش کے عام انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے، اور خالدہ ضیا مرحومہ کے امریکا پلٹ بیٹے طارق رحمان کو ملک کے نئے وزیراعظم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اب دیکھیے کہ نئی قیادت ملکی عوام کی بہتری کے لیے کیا کچھ کرتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













