بنگلہ دیش میں 11 جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد نے زور دیا ہے کہ ملک میں نئی اور صحت مند سیاست کو فروغ دیا جائے اور ماضی کی روایتی سیاست کے تاریک ابواب کو مسترد کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بی این پی کی بھاری اکثریت کے بعد طارق رحمان پر سب کی نظریں، کیا بنگلہ دیش میں نیا سیاسی باب شروع ہوگا؟
بنگلہ دیش میں 11 جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد کا اعلیٰ سطحی اجلاس جمعے کی شب مرکزی دفتر بنگلہ دیش جماعت اسلامی میں منعقد ہوا جس کی صدارت امیر جماعت ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کی۔
اجلاس میں 12 فروری کو منعقد ہونے والے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے نتائج اور بعد از انتخاب صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ انتخابی عمل کے دوران متعدد قابل اعتراض امور سامنے آئے جن میں مبینہ دھاندلی، پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنز تک رسائی میں رکاوٹیں اور دیگر بے ضابطگیاں شامل ہیں۔
انتخابی بے ضابطگیوں پر تحفظات
اتحاد کے رہنماؤں نے ملک کے مختلف حصوں میں کارکنان اور ووٹرز کے خلاف مبینہ تشدد، حملوں اور آتشزنی کے واقعات کی مذمت کی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات فوری طور پر بند کیے جائیں بصورت دیگر سخت فیصلے کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کو فیصلہ کن اکثریت حاصل ہوگئی
اجلاس میں بعض حلقوں میں نتائج کی فہرستوں میں مبینہ رد و بدل اور طریقۂ کار میں بے قاعدگیوں کا بھی الزام عائد کیا گیا۔
اتحاد نے اعلان کیا کہ جہاں ناانصافی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہاں قانونی چارہ جوئی کی جائے گی خصوصاً ڈھاکہ 13 اور کھلنا 5 کے حلقوں کا ذکر کیا گیا۔
رہنماؤں نے عندیہ دیا کہ مقررہ مدت میں اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
اتحاد نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن، نظم و ضبط اور متحدہ بنگلہ دیش کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا اور جسے وہ آمرانہ طرز عمل قرار دیتا ہے اس کے خلاف ڈٹا رہے گا۔
اتحاد نے قبل از انتخابات وعدوں کی پاسداری، خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے آواز اٹھانے اور عوامی مفاد کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ مبینہ بدانتظامی کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری احتساب کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
الیکشن کمیشن سے مطالبات
اتحاد نے بنگلہ دیش الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ایسے امیدواروں کے نتائج معطل کیے جائیں جن پر قرض نادہندگی کے الزامات ہیں، کیونکہ عوامی نمائندگی آرڈر کے تحت یہ اجازت نہیں دی جا سکتی۔
علاوہ ازیں حالیہ ریفرنڈم کے فیصلے پر عملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: بی این پی کی انتخابی فتح کے بعد پاکستان کا بنگلہ دیش سے تعلقات مزید مضبوط بنانے کا اعلان
اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما، اتحادی جماعتوں کے نمائندگان، نومنتخب اراکین پارلیمنٹ اور دیگر پارٹی عہدیداران شریک ہوئے۔ اجلاس کے بعد ڈاکٹر شفیق الرحمن نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دی۔














