وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جیل حکام کسی کی فرمائش پر نہیں چل سکتے، تاہم اگر کسی قیدی کو مخصوص ڈاکٹر یا اسپیشلسٹ سے علاج کرانے کا مطالبہ ہے تو اس کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت علاج کے طبی معاملات میں براہِ راست مداخلت نہیں کرتی، یہ فیصلہ متعلقہ میڈیکل اتھارٹیز نے کرنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟
نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کسی مخصوص ڈاکٹر یا نجی اسپتال سے علاج کا مطالبہ کرتی ہے تو وہ یہ نکتہ سپریم کورٹ میں اٹھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب تک عدالت اس حوالے سے کوئی واضح ہدایت جاری نہیں کرتی، حکومت اپنی جانب سے کوئی خصوصی اقدام نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس نوعیت کی مثال قائم کی گئی تو پھر ہر زیر حراست شخص اپنی مرضی کے ڈاکٹر یا اسپتال کا مطالبہ کرے گا، جس سے ایک نئی نظیر (پریسیڈنٹ) بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایک بڑا سرکاری ادارہ موجود ہے اور وہاں متعلقہ شعبے کے سربراہ ماہر ڈاکٹر موجود ہیں، جن کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔
سینیٹر رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن کو کسی معاملے پر اعتراض ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاج ڈاکٹروں نے کرنا ہوتا ہے، حکومت کا کام طبی فیصلے کرنا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا، محسن نقوی
سینیٹ میں ہونے والی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر سیاست کرنے کے الزامات لگائے گئے، تاہم ان کے بقول زیر حراست رہنما کو تمام ضروری سہولیات اور طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، اور کسی قسم کی کمی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو مزید شکایت ہے تو وہ قانونی اور عدالتی راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہترین علاج اس عارضے کا، جو عمران خان کو لاحق ہے، وہ بھی ہو رہا ہے۔ انہوں نے پہلے یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی کہ چار ماہ سے خان صاحب کے معاملے میں غفلت برتی جا رہی ہے۔ میں نے آج ان کے سامنے یہ بات رکھی کہ اگر واقعی چار ماہ سے ایسا مسئلہ تھا تو یہ انتہائی تشویشناک بات ہے، لیکن آپ اس کا جواب دیں کہ 2 دسمبر کو ان کی اہلیہ نے ان سے ملاقات کی۔ اگر اس وقت اتنا سنگین مسئلہ تھا اور ان کی بینائی متاثر ہو رہی تھی تو سب سے پہلے یہ بات انہیں بتانی چاہیے تھی۔

جب وہ باہر آئیں تو میڈیا نے ان سے خان صاحب کی صحت کے بارے میں سوال کیا، جس کا آڈیو اور ویڈیو کلپ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ الحمدللہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔
اس کے بعد 9 دسمبر کو ان کا میڈیکل معائنہ ہوا، جس میں ایک پروفیسر اور تین دیگر ڈاکٹروں نے مکمل معائنہ کیا۔ اس کی باقاعدہ رپورٹ اور نوٹس موجود ہیں۔ اگر چار ماہ سے یہ مسئلہ چل رہا تھا تو وہاں اس کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر کہا جائے کہ وہ سرکاری ڈاکٹر تھے اور انہیں نہیں بتایا گیا، تو پھر 20 دسمبر کو، جس دن توشہ خانہ نمبر ٹو کیس کا فیصلہ ہوا، اسی دن سلمان صفدر صاحب اور دیگر وکلا دو گھنٹے تک ان کے ساتھ عدالت میں موجود رہے۔ اس موقع پر عدالت کو بتایا جا سکتا تھا یا درخواست دی جا سکتی تھی کہ انہیں یہ مسئلہ درپیش ہے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے حوالے سے 4 ماہ کی غفلت کا دعویٰ بے بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ
رانا ثنا کا کہنا تھا کہ یہ بات صفدر صاحب کو بھی بتائی جا سکتی تھی، لیکن انہوں نے بھی اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ مزید یہ کہ 6 اگست کو ان کی بہن نے کہا تھا کہ ان کی آنکھ میں تکلیف ہے۔ اگر اس وقت بھی نہ بتایا گیا تو جنوری میں جب معاملہ سامنے آیا تو ایک بداعتمادی کی فضا پیدا ہو گئی۔ جب ابہام بڑھا تو بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں پمز لے جایا گیا تھا۔
اب آپ بتائیں کہ اس میں کہاں کوتاہی ہے؟ کہاں غفلت ہے؟ اگر اس معاملے کو بلاوجہ سیاسی رنگ دیا جائے تو وہ الگ بات ہے۔ ہمارا مشورہ تو یہی ہے کہ اس معاملے کو سیاسی نہ بنایا جائے بلکہ جو بھی طبی ضرورت ہے، اسی کے مطابق عمل کیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو عمران خان صاحب کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنا پڑا تو اس کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ جب میاں نواز شریف صاحب بیرون ملک گئے تھے تو وہ بھی عدالتی اجازت سے گئے تھے۔

اگر عمران خان بیرون ملک جانا چاہتے ہیں، کسی نجی اسپتال میں علاج کرانا چاہتے ہیں یا کسی مخصوص ڈاکٹر کو دکھانا چاہتے ہیں تو وہ عدالت سے رجوع کریں۔ حکومت عدالت میں اپنی رپورٹ اور موقف پیش کرے گی کہ آیا اس بیماری کا علاج ملک کے اندر میسر ہے یا نہیں۔
اگر علاج ملک میں دستیاب نہیں ہوگا تو جہاں بھی دنیا میں میسر ہوگا، وہاں علاج کی سہولت دی جا سکتی ہے، کیونکہ صحت کے معاملے پر سیاست یا قدغن نہیں ہونی چاہیے۔ اگر یہاں علاج ممکن ہے اور مؤثر ہے تو موقع ملنا چاہیے، اور کسی کو اس میں رکاوٹ بننے کا حق حاصل نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جو سہولیات اور شرائط طے کر کے بھیجی گئی ہیں اور جو رپورٹ سلمان صفدر صاحب نے دی ہے، دونوں میں یکسانیت ہے۔ ایسے میں پچھلے آٹھ ماہ سے جو پراپیگنڈا کیا جا رہا تھا، اس کی حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔
اگر واقعی کوئی مسئلہ ہے تو متعلقہ حکام سے بات کیوں نہیں کی جاتی؟ کیونکہ اگر براہِ راست بات کی جائے تو اس قسم کا پراپیگنڈا ختم ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری
انہوں نے کہا کہ اگر منتقلی، پیرول، ضمانت یا کسی اور قانونی سہولت کی درخواست دینی ہے تو عدالت سے رجوع کیا جائے۔ عدالت معاملے کا جائزہ لے کر مناسب حکم جاری کرے گی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت سیاست کر رہی ہے، کیونکہ ان کے اپنے اقدامات ہی سیاسی مقاصد کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مذاکرات کے حوالے سے سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن خود مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے بعد ملاقاتوں کی بات ضرور ہوئی تھی، مگر اپوزیشن کی جانب سے سنجیدگی دکھائی نہیں گئی۔

ان کے مطابق اپوزیشن قیادت کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ مذاکرات سے کوئی فائدہ نہیں اور اس کے بجائے اسٹریٹ موومنٹ پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں نے بھی ملاقات کے دوران اسی مؤقف کا اظہار کیا کہ ملک گیر احتجاجی تحریک کی تیاری کی جائے۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ اپوزیشن سیاسی ڈائیلاگ کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ ان کے بقول 8 فروری کی کال توقعات کے مطابق کامیاب نہیں ہوئی، جس کے بعد اب دوبارہ لانگ مارچ اور احتجاج کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پشاور میں ایک ٹرک پر لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کی کال دی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن مذاکرات کے بجائے احتجاج کی سیاست جاری رکھنا چاہتی ہے۔














