گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے سفارتی روابط تو کھلے ہیں اور دہشتگردی کے حوالے سے ان سے بات چیت جاری رہتی ہے لیکن اب ہم اس معاملے کو سیکیورٹی کونسل جیسے بین الاقوامی فورمز پر اٹھا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغان پالیسی میں شفٹ کیوں آیا؟
وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ افغان حکومت کے عدم تعاون سے متعلق پاکستان کی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان کی افغانستان پالیسی حالیہ مہینوں میں زیادہ واضح، دستاویزی اور کثیر جہتی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف کابل کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب سرحد پار دہشتگردی کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔ حالیہ پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے اس مؤقف کو مزید وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔
سرحد پار دہشت گردی: پاکستان کا بنیادی مؤقف
پاکستان کا مستقل مؤقف رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان میں موجود پناہ گاہوں سے پاکستان میں حملے کر رہی ہے۔
سلام آباد میں ترلائی امام بارگاہ پر خودکش حملہ ہو یا سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں، حکام کے مطابق ان کے روابط سرحد پار موجود نیٹ ورکس سے جڑے ہوتے ہیں۔
اسی طرح بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے حوالے سے بھی پاکستانی ادارے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے بعض عناصر افغانستان میں موجود رہے ہیں یا انہیں وہاں سہولت کاری میسر آتی رہی ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان کی افغان پالیسی کتنی درست، افغانستان پر ہمارا کنڑول کتنا تھا، سابق کور کمانڈر پشاور کا تبصرہ
اگرچہ افغان حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
سلامتی کونسل کی 1267 رپورٹ: پاکستان کے بیانیے کی تائید
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی حالیہ بریفنگ میں واضح طور پر کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 4 فروری کو جاری ہونے والی 1267 پابندیوں کی کمیٹی رپورٹ پاکستان کے مؤقف کی ’وسیع حد تک تائید‘ کرتی ہے۔
رپورٹ کے اہم نکات جن کا حوالہ بریفنگ میں دیا گیا
افغانستان میں ٹی ٹی پی کو ’زیادہ عملی آزادی‘ حاصل ہے۔
عبوری افغان حکومت ایک “permissive environment” فراہم کر رہی ہے۔
ٹی ٹی پی افغانستان میں سب سے بڑی دہشتگرد تنظیموں میں شمار ہوتی ہے اور پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث ہے۔
القاعدہ افغانستان میں موجود ہے اور وہ دیگر گروہوں، بالخصوص ٹی ٹی پی، کو تربیت اور مشاورت فراہم کرتی ہے۔
القاعدہ برصغیر (AQIS) جنوب مشرقی افغانستان میں سرگرم ہے۔
داعش خراسان (ISIL-K) شمالی افغانستان میں فعال ہے۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان کی پالیسیاں درست نہیں، دہشتگرد نیٹ ورکس سے روابط کا خاتمہ ضروری قرار
ترجمان کے مطابق یہ رپورٹ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر رکن ممالک کی تشویش کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کا تعاون علاقائی حدود سے باہر بھی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
سفارتی فورمز پر پاکستان کی سرگرمی
پاکستان نے اس مسئلے کو مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر اٹھایا ہے:
- اقوام متحدہ
جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں باضابطہ بیانات
1267 کمیٹی کے فریم ورک میں دہشتگرد گروہوں کی نشاندہی
خط و کتابت اور دستاویزی شواہد کی فراہمی
-
شنگھائی تعاون تنظیم
علاقائی انسداد دہشتگردی ڈھانچے کے ذریعے افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار۔
- اسلامی تعاون تنظیم
افغانستان کے انسانی بحران کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی خدشات کو بھی زیر بحث لانا۔
افغان طالبان حکومت اور ذمہ داری کا سوال
سنہ2021 میں افغان طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کو توقع تھی کہ سرحد پار دہشتگردی میں کمی آئے گی۔ تاہم سلامتی کونسل کی رپورٹ یہ اشارہ دیتی ہے کہ افغان عبوری حکومت اب بھی بعض گروہوں کو عملی گنجائش فراہم کر رہی ہے۔
یہ نکتہ پاکستان کی سفارتی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے:
یہ مطالبہ کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو اب دوطرفہ سطح سے بڑھ کر عالمی سطح پر دستاویزی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔
داخلی سلامتی اور عالمی بیانیہ
پاکستان کے لیے مسئلہ صرف سرحدی دراندازی نہیں بلکہ داخلی استحکام بھی ہے۔ ترلائی جیسے حملے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں کارروائیاں معاشی منصوبوں کو نشانہ بناتی ہیں۔
اسلام آباد کی موجودہ پالیسی 3 ستونوں پر قائم دکھائی دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان کا پاکستان کے خلاف ہونا ہماری غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے، وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور
انٹیلیجنس اور دفاعی اقدامات کی مضبوطی اس کے ساتھ ساتھ کابل کے ساتھ سفارتی چینلز کا تسلسل اور عالمی سطح پر قانونی و اخلاقی جواز کی مضبوطی۔
علاقائی استحکام کا امتحان
دفتر خارجہ کی حالیہ بریفنگ نے یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے معاملے کو محض بیانیہ جنگ نہیں بلکہ دستاویزی اور قانونی فریم ورک کے اندر لے جانا چاہتا ہے۔ سلامتی کونسل کی رپورٹ کے حوالہ جات نے پاکستان کے مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر تقویت دی ہے تاہم پائیدار حل اب بھی کابل کی عملی کارروائیوں اور علاقائی تعاون سے مشروط ہے۔
اگر افغانستان اپنی سرزمین پر سرگرم گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرتا ہے تو تعلقات میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ بصورت دیگر پاکستان کی سفارتی حکمت عملی مزید سخت اور عالمی سطح پر فعال ہوتی نظر آ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: طالبان کی ناقص پالیسیاں، افغان عوام کی غربت میں اضافہ ہوگیا
خطے کا امن، درحقیقت، اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد سازی اور عملی تعاون پر منحصر ہے۔














