وفاقی دارالحکومت میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر حکمران امریکی غلامی پر بضد رہے تو اپوزیشن ایک بار پھر میدان میں نکلنے پر مجبور ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:مجھے اکثر کہا جاتا ہے آپ شریف آدمی ہیں سیاست کیوں کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ مشاورت پر اتفاق ہوا ہے اور عیدالفطر کے بعد ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے گی۔ ان کے مطابق چاروں صوبوں میں جا کر عوام کو موجودہ حالات سے آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے فلسطین کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم فلسطین جا کر حماس کو غیر مسلح کریں گے؟ حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، بصورت دیگر اپوزیشن حکومت کو چلنے نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی سطح پر پاکستان کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہوگی اور افغانستان کو بھی بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:’قبضے کا نظام ختم کرنا ہوگا‘، حافظ نعیم کا 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان
سربراہ جے یو آئی نے مزید کہا کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اسے اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کو بھی قائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ غزہ سے متعلق امن عمل کی کمان امریکا کے ہاتھ میں ہے، اس لیے بروقت اور درست فیصلہ کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر قومی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا گیا تو اپوزیشن بھرپور ردعمل دے گی۔













