’قبضے کا نظام ختم کرنا ہوگا‘، حافظ نعیم کا 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان

اتوار 1 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام کا حق اور مطالبات نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے شہر کی موجودہ صورتحال پر طویل جدوجہد کا عندیہ دیتے ہوئے 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان کردیا۔

’جینے دو کراچی مارچ‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گل پلازہ سانحے کے بعد عوامی قیادت کی غیر موجودگی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری موقع پر نہیں آئے اور متاثرہ لوگوں کے دکھوں اور غموں کا مداوا نہیں کیا گیا، جس سے شہریوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: جماعت اسلامی نے وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ کردیا، ملین مارچ کا اعلان

حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ شہر کے عوام نے قیادت کے رویے کو بے حسی قرار دے دیا ہے اور گل پلازہ کے متاثرین آج بھی دلاسے اور توجہ کے منتظر ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ کراچی ملک کی 54 فیصد ایکسپورٹس فراہم کرتا ہے مگر شہر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم پر بھی تنقید کی کہ سانحات میں جلتے ہوئے شہریوں سے اظہار ہمدردی کے لیے وہ کراچی نہیں پہنچے، جبکہ بچوں، ماؤں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہونا ان کا حق تھا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ شہر کو نہ صوبائی قبضہ قبول ہے نہ وفاقی، کراچی کو اپنی بااختیار حکومت چاہیے۔ آئین مقامی حکومتوں کو اختیارات دیتا ہے مگر اختیارات چھینے جا رہے ہیں اور ایم ڈی اے، ایل ڈی اے، ایس بی سی اے اور دیگر اداروں کے ذریعے وسائل پر قبضہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں بااختیار اور خودمختار شہری حکومت کا نظام دیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ لوکل لیول پر اختیارات منتقل نہ ہونا عوام کے ساتھ تماشا ہے، جبکہ ٹاؤن اور یوسی چیئرمین منتخب ہونے کے باوجود پانی، سیوریج اور کچرے کے اختیارات نہیں ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ وڈیروں اور جاگیرداروں نے نظام پر قبضہ کر رکھا ہے اور ایک بھٹو خاندان اور چند وڈیرے پورے سندھ کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ ہاریوں، غریبوں اور شہریوں کے حقوق ایک ساتھ سلب کیے جا رہے ہیں اور یہ قبضے کا نظام اب ختم کرنا پڑے گا۔

انہوں نے شاہراہ فیصل سے ایک عظیم تحریک کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ یہ جدوجہد اپنی ذات یا جماعت کے لیے نہیں بلکہ اپنے بچوں کے لیے اختیار حاصل کرنے کے لیے ہے۔

مزید پڑھیں: اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات

حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ کراچی کو 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے مگر موجودہ چند سو بسیں صرف دکھاوا ہیں۔ اربوں کے اشتہارات عوام کے ٹیکسوں سے چلائے جا رہے ہیں، جبکہ شہری پٹرول اور موبائل ٹیکس دینے کے باوجود سہولیات سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نوجوان مہنگا پیٹرول اس لیے جلا رہے ہیں کیونکہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام ناکافی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب کا بڑا مالی تعاون: پاکستان کے 3 ارب ڈالر ڈپازٹ میں توسیع کا معاہدہ طے

ٹرمپ کے ڈیپ فیک میمز کا بڑھتا رجحان: سوشل میڈیا پر سیاست کا نیا ہتھیار

اسحاق ڈار کی جنوبی کوریا کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات، باہمی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

عالمی تجارت متاثر: پاکستان نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر فوری اقدامات کا مطالبہ کر دیا

’جیسا استقبال مجھے پاکستان میں ملا اگر اس کا آدھا بھی امریکی وفد کو مل جائے تو وہ کبھی واپس نہ جائیں‘، امریکی صحافی

ویڈیو

ترکیہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں: وزیراعظم شہباز شریف اور حاقان فیدان کی ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی کوششیں تیز

افغانستان میں کامیاب کارروائی کے بعد پاکستان میں 70 فیصد دہشتگرد کارروائیوں میں کمی ہوئی، صحافیوں کی رائے

واسا لاہور عالمی سطح پر نمایاں، ٹاپ 5 واٹر یوٹیلیٹیز میں شارٹ لسٹ

کالم / تجزیہ

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘