لندن کے معروف علاقے ویسٹ اینڈ میں روشنی اور امید کی فضا اس وقت قائم ہو گئی جب میئر صادق خان نے لیسٹر اسکوائر میں اس سال کی رمضان لائٹس کا باقاعدہ افتتاح کیا اور کمیونٹیز سے تقسیم کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا ’آئیے لندن کا بہترین چہرہ دکھائیں، برطانیہ کا بہترین چہرہ دکھائیں، اور اسلام کا بہترین چہرہ دکھائیں‘۔
London Mayor Sadiq Khan switches on Ramadan Lights, sponsored by The Aziz Foundation. For a month the West End will dazzle with a free, family-friendly celebration, illuminating the city with over 30,000 LED lights, the UK’s first and largest annual celebration of Ramadan… pic.twitter.com/1KALWGPGmV
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) February 13, 2026
انہوں نے کہاکہ میں مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں، بدھ مت کے پیروکاروں، سکھوں، منظم مذاہب سے تعلق رکھنے والوں اور ان سے بھی جو کسی مذہب سے وابستہ نہیں، سب سے اپیل کرتا ہوں کہ رمضان کے اس مہینے میں اکٹھے ہوں۔
30 ہزار سے زیادہ ایل ای ڈی لائٹس نے دارالحکومت کو روشن کر دیا، جن کا ڈیزائن اسلامی ہندسی نقش و نگار اور رمضان کے فلکیاتی نظم و ضبط سے متاثر ہے، جو روزے کے روزانہ اوقات کی عکاسی کرتا ہے۔ پورے ماہِ مقدس کے دوران یہ روشنیوں کا منظرنامہ ’ہیپی رمضان‘ دکھائے گا، جو 18 مارچ کو ’ہیپی عید‘ میں تبدیل ہو جائے گا۔
اسلاموفوبیا اور وسیع تر سماجی کشیدگی میں اضافے پر بات کرتے ہوئے میئر لندن نے ان عناصر کا ذکر کیا جو تقسیم، نفرت اور خوف کے بیج بو رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ رمضان کے اس مہینے میں ہم نے نفرت کے بجائے محبت کا پیغام عام کرنا ہے۔
انہوں نے روزہ رکھنے والے مسلمانوں کو یاد دہانی بھی کرائی کہ وہ اپنی دعاؤں اور خیرات میں سوڈان، غزہ اور یوکرین سمیت دنیا بھر میں مصائب کا شکار افراد کو یاد رکھیں۔
اپنی تاریخی تیسری مدت کے دوران جرائم کی شرح اور ٹرانسپورٹ پالیسی پر تنقید سمیت سیاسی چیلنجز کے باوجود میئر نے خوشگوار انداز اپناتے ہوئے مسلم کمیونٹی کو ’رمضان کریم’ کہا اور روزے کی حقیقتوں پر ہلکا پھلکا تبصرہ بھی کیا۔
انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہاکہ اگر آپ غیر مسلم ہیں تو اپنے کسی مسلمان دوست سے پوچھیں کہ وہ اتنے اداس کیوں ہیں، وہ آپ کو بتائیں گے کہ روزہ رکھنا مشکل ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں رمضان کی بیسٹ اور کم قیمت فوڈ ڈیلز کہاں کہاں دستیاب ہیں؟
یہ نمایاں روشنیوں کا انتظام عزیز فاؤنڈیشن کی جانب سے کیا گیا ہے، جو مسلسل چوتھے سال اس اقدام کی قیادت کر رہی ہے۔
فاؤنڈیشن کا مقصد برطانوی مسلمانوں کو تعلیم، میڈیا، قانون اور سیاست میں نظامی رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے بااختیار بنانا ہے، اور اس نے ان روشنیوں کو صرف مذہبی علامت نہیں بلکہ تمام لندن والوں کے لیے مشترکہ ثقافتی جشن کے طور پر پیش کیا ہے۔














