نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ واشنگٹن سے قبل اسلام آباد میں امریکا کی ناظم الامور نیٹلی بیکر سے اہم ملاقات کی۔
یہ ملاقات 15 فروری کو ہونے والے بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کے تناظر میں کی گئی، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف واشنگٹن میں ہونے والے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ ملاقات وزارتِ خارجہ میں ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات کے مجموعی خدوخال اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے پاک امریکا تعلقات میں مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے زور دیا کہ اعلیٰ سطحی روابط کو مزید مضبوط بنا کر باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی وفد بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے ساتھ ساتھ متعدد اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں جن میں تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون سمیت مختلف بین الاقوامی و باہمی امور زیر بحث آئیں گے۔
اسی مقصد کے لیے وزارتِ خارجہ نے وزارتِ تجارت اور وزارتِ خزانہ سمیت متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے بریفنگ مواد اور نکات طلب کر لیے ہیں تاکہ ممکنہ مذاکرات کے لیے جامع تیاری کی جا سکے۔
مزید پڑھیں: سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت لانا ہوگی، اسحاق ڈار
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بھی امریکا کے ساتھ دوطرفہ امور پر بات چیت کی پاکستانی خواہش کی تصدیق کی۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم کے ہمراہ جانے والے وفد کی حتمی تشکیل ابھی طے نہیں ہوئی۔
وفد کے دیگر ارکان اور امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کی تفصیلات مناسب وقت پر میڈیا سے شیئر کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: سال 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم نے کتنے بیرونی دورے کیے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق متوقع پاک۔امریکا رابطے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
عمان کی سہولت کاری سے اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی جاری رہے ہیں۔
اس تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا محور دوطرفہ تعلقات، علاقائی استحکام اور اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانا ہوگا۔













