امریکی فوج نے گزشتہ ماہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے والی کارروائی میں مصنوعی ذہانت کے ماڈل کلاڈ کا استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران
امریکی میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کلاڈ کو صرف منصوبہ بندی کے مراحل میں نہیں بلکہ خود کارروائی کے دوران بھی استعمال کیا گیا۔ تاہم اس کا درست کردار واضح نہیں کیا گیا۔
امریکی فوج ماضی میں بھی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو سیٹلائٹ تصاویر اور خفیہ معلومات کے فوری تجزیے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔
سان فرانسسکو میں قائم AI لیب انتھروپک جو کلاڈ کی خالق ہے اپنی پالیسیوں میں واضح طور پر ٹیکنالوجی کو تشدد، ہتھیاروں کی تیاری یا نگرانی میں استعمال کرنے کی ممانعت کرتی ہے۔ کارروائی کے دوران کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا تاہم 3 جنوری کو درجنوں وینزویلا اور کیوبا کے فوجی اور سیکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔
انتھروپک کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے کہ کلاڈ یا کسی اور اے آئی ماڈل کو کسی مخصوص یا خفیہ آپریشن میں استعمال کیا گیا یا نہیں۔
مزید پڑھیے: انتھراپک کا اپنے جدید ماڈل کلاڈ سونیٹ 4.5 جاری، دیگر اے آئی ماڈلز کو چیلنج
انہوں نے کہا کہ کمپنی کی پالیسی کے مطابق نجی یا سرکاری شعبے میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال کمپنی کے ضوابط کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
انتھروپک کے حریف اداروں اوہن اے آئی، گوگل اور ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے بھی پینٹاگون کے ساتھ معاہدے موجود ہیں جن کے تحت انہیں اپنے ماڈلز تک رسائی دی گئی ہے۔ تاہم کلاڈ کو پالینٹیر ٹیکنالوجیز کے اشتراک سے ان خفیہ پلیٹ فارمز پر تعینات کیا گیا ہے جو امریکی فوج کے حساس ترین کاموں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی حالیہ ہفتوں میں اے آئی کے محفوظ استعمال پر زور دیتی رہی ہے اور خود کو اس شعبے میں ذمہ دار متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
کمپنی کے سی ای او ڈاریو امودی اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ بے قابو مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: چیٹ بوٹ کلاڈ ہیکرز کے ہاتھوں استعمال، ڈیٹا چوری اور بلیک میلنگ
رپورٹس کے مطابق انتھروپک اور پینٹاگون کے درمیان خودکار ہتھیاروں اور داخلی نگرانی میں اے آئی کے استعمال سے متعلق پابندیوں میں نرمی پر مذاکرات جاری ہیں۔ اسی تنازع کے باعث تقریباً 200 ملین ڈالر مالیت کے معاہدے میں بھی تعطل پیدا ہو گیا ہے۔














