اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران

منگل 6 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ جاری ہے اور حالیہ انکشاف نے اس پیشرفت کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا استعمال، ملازمین پر نئے نفسیاتی دباؤ کا خدشہ

گوگل جیمنی سے وابستہ ایک پرنسپل انجینیئر ڈوگن نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی ٹیم نے  کلاڈ کوڈ کی مدد سے ایسا مسئلہ حل کر لیا جس پر وہ تقریباً ایک سال سے کام کر رہی تھی۔

انجینیئر کے مطابق اے آئی نے محض ایک گھنٹے میں ایک ایسا قابل استعمال پروٹوٹائپ تیار کر دیا جو اس حل سے کافی حد تک مماثل تھا جسے تیار کرنے میں گوگل کی ٹیم کو 12 ماہ کی منصوبہ بندی اور اندرونی رابطہ کاری درکار تھی۔

یہ تجربہ اس وقت شروع ہوا جب انجینیئر ڈوگن نے اے آئی کو ایک ایسے مسئلے کی بنیادی وضاحت فراہم کی جس سے ان کی ٹیم طویل عرصے سے نبرد آزما تھی۔

یہ مسئلہ دراصل ڈسٹری بیوٹڈ ایجنٹ آرکسٹریشن سسٹم کی تیاری سے متعلق تھا جسے سادہ الفاظ میں ایک ایسا ٹریفک کنٹرول سسٹم کہا جا سکتا ہے جو بیک وقت کام کرنے والے کئی اے آئی ایجنٹس کو منظم کرتا ہے۔

مزید پڑھیے: بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے خطرناک استعمال کا انکشاف

صرف 3 پیراگراف پر مشتمل ایک مختصر پرامپٹ کے ذریعے اور بغیر کسی اندرونی بحث یا تاخیر کے اے آئی نے ایسا پروٹوٹائپ تیار کیا جو گوگل کے سال بھر میں تیار کردہ حل کے قریب تر تھا۔

ڈوگن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  پر لکھا کہ میں مذاق نہیں کر رہی ہم گوگل میں گزشتہ سال سے ڈسٹری بیوٹڈ ایجنٹ آرکسٹریٹرز بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ واقعہ اے آئی کے ارتقا میں ایک وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جہاں سنہ 2022 میں اے آئی محض کوڈ کی چند سطریں لکھنے تک محدود تھی جبکہ اب وہ پیچیدہ سافٹ ویئر آرکیٹیکچر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس پیشرفت نے انجینیئرز کے مستقبل کے کردار پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹائم میگزین نے مصنوعی ذہانت کے معماروں کو رواں سال کا ‘پرسن آف دی ایئر’ قرار دے دیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی فوری طور پر انسانی ماہرین کی جگہ نہیں لے گی تاہم سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے مراحل میں اس کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ٹیک انڈسٹری کے مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا واضح ثبوت ہے جہاں ایک سال سے درپیش تکنیکی رکاوٹ محض چند گھنٹوں میں حل ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسابقتی برتری برقرار رکھنے کے لیے کمپنیوں کو اس تیز رفتار تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت میں سمندری طوفان ارنب کا خطرہ، ایک لاکھ افراد کے انخلا کے احکامات

بوٹوکس سے بشریٰ انصاری کا چہرہ کیسے متاثر ہوا؟ اداکارہ کا چونکا دینے والا انکشاف

فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

بابر اعظم کی بیٹنگ میں تکنیکی خامی کی نشاندہی، محمد یوسف نے اہم مسئلہ بتا دیا

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں