کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا اور سنسنی خیز مقابلہ ایک بار پھر ہونے جا رہا ہے، جہاں پاکستان اور بھارت کی قومی کرکٹ ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔
پاکستان کی موجودہ پوزیشن اور بنگلہ دیش کے ساتھ اختیار کیا گیا موقف ٹیم کے نظم و ضبط اور پختہ عزم کی واضح عکاسی کرتا ہے، اور شائقین اسی جذبے کی توقع 15 فروری کو ہونے والے میچ میں بھی رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹیم فارم میں ہے، نتیجہ بھی بہتر ہی نکلے گا، کولمبو پہنچنے پر محسن نقوی کی میڈیا سے بات چیت
یہ میچ نہ صرف ٹیم کے ٹورنامنٹ میں مستقبل کے سفر کے لیے اہم ہے بلکہ فتح یا شکست کا اثر ٹیم کے اعتماد اور گروپ کی پوزیشن پر بھی پڑے گا۔ شائقین اور تجزیہ کار سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ پاکستان کس حکمت عملی کے تحت بھارت کے خلاف یہ اہم مقابلہ جیتے سکتا ہے؟ کیا موجودہ اسکواڈ اس مقابلے کے لیے متوازن ہے؟ اور بھارت کی بیٹنگ لائن کے خلاف پاکستان کی بہترین بولنگ حکمتِ عملی کیا ہو سکتی ہے؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اسپورٹس جرنلسٹ فیضان لاکھانی کا کہنا تھا کہ پاک بھارت مقابلہ ہمیشہ اعصاب، حکمتِ عملی اور لمحوں کی جنگ ثابت ہوتا ہے۔ پاکستان کو یہ میچ جیتنے کے لیے پاور پلے میں وکٹیں حاصل کرنا ہوں گی تاکہ بھارتی بیٹنگ پر ابتدائی دباؤ ڈالا جا سکے۔ساتھ ساتھ اس کے رنز کی رفتار روکنا بھی انتہائی اہم ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیٹنگ میں صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان کو جارحانہ آغاز اپنانا ہوگا تاکہ بھارتی بولرز کی لائن کو متاثر کرسکیں ، مڈل اوورز میں بیٹرز کو اسٹرائیک روٹیشن برقرار رکھنی ہوگی تاکہ دباؤ نہ بڑھے۔
ایک سوال کے جواب میں فیضان لاکھانی کا کہنا تھا مک اس بڑے میچ میں سب سے مہنگی غلطی کیچ ڈراپ کرنا یا فیلڈنگ میں سستی ہو سکتی ہے، کیونکہ بھارت جیسی ٹیم کو دوسرا موقع دینا اکثر شکست میں بدل جاتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کسی ایک پلیئر کو خطرناک نہیں قرار دے سکتے، ٹی 20 ایسا فارمیٹ ہے جس میں کوئی بھی کھلاڑی گیم کا پانسہ پلٹ سکتا ہے اس لئے پوری انڈین ٹیم کو ایک سخت اور سنجیدہ حریف تصور کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت ٹی 20 میچ: قومی ٹیم اتوار کو روایتی حریف کو پچھاڑ دے گی، ڈاکٹر نعمان نیاز کا دلائل کے ساتھ دعویٰ
انہوں نے پاکستان کی بہترین حکمت عملی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی بیٹنگ لائن کے خلاف پاکستان کی بہترین بولنگ حکمتِ عملی یہ ہو سکتی ہے کہ نئی گیند کا بھرپور استعمال کیا جائے اور پھر مڈل اوورز میں انڈیا کے رنز بنانے کی رفتار کو روکا جائے، باونڈریز نہ دی جائیں، ڈیتھ اوورز میں یارکر اور سلوور بالز کے ساتھ واضح پلان کے تحت بولنگ کی جائے۔ ہر بیٹر کے لیے الگ حکمتِ عملی بنانا ضروری ہوگا کیونکہ ایک ہی انداز سب پر مفید نہیں ہوتا۔
ایک مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایسے اعصاب شکن مقابلوں میں اکثر فیلڈنگ ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ باؤنڈری لائن پر بچائے گئے رنز، بروقت ڈائریکٹ ہٹ، پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنگلز کو ڈبلز میں تبدیل ہونے سے روکنا یا ایک اچھا کیچ میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔
پاک بھارت مقابلوں میں اکثر 10 سے 15 رنز کا فرق نتیجہ طے کرتا ہے اور اس فرق میں فیلڈنگ کا کردار اہم ہوتا ہے، اس لیے ٹیم کو مکمل فوکس اور متوازن کامبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔ جو ٹیم دباؤ کو بہتر انداز میں سنبھالے گی وہ ہی کامیاب ہوگی۔

اسپورٹس تجزیہ کار ماجد بھٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی گزشتہ ناکامیوں کو بھو جانا چاہیئے۔ کیونکہ اب نیا دن، نیا میچ ہے۔ چار مہینے پہلے پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ہارا تھا۔ ایشیا کپ میں بھی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ وقت گزر چکا ہے۔ اگر ابھی کی بات کی جائے تو اب پاکستان کی کارکردگی واضح طور پر بہتر ہوئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیم نے خود کو امپروو کیا ہے۔ اور جہاں تک بات بھارت کے خطرناک کھلاڑی کی ہے تو، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت کی پوری ٹیم ہی مضبوط ہے۔ کسی ایک کھلاڑی کا نہیں کہا جا سکتا کہ کون پاکستان کو زیادہ ٹف ٹائم دے سکتا ہے۔ اور اس پر ٹیم کو زیادہ فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی ٹیم کو میچ جیتنے کے لیے بھارت کے 11 کھلاڑیوں پر ہی فوکس کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت ٹی 20 میچ: ہاتھ ملائیں گے یا نہیں، دونوں کپتان کیا کہتے ہیں؟
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ چونکہ پاکستانی ٹیم نے اپنی کارکردگی کو بہتر بنایا ہے۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ ٹیم ایسا حوصلہ رکھتی ہے کہ وہ بھارت کے خلاف بہترین کھیل سکتی ہے۔ اور بھارت کو چیلنج کر سکتی ہے۔
اسپورٹس تجزیہ کار سمیع چوہدری کے مطابق پاکستان کو بھارت کے خلاف کامیابی کے لیے ہر کھلاڑی کے خلاف واضح اور مخصوص حکمتِ عملی بنانا ہوگی۔ ان کے بقول صرف منصوبہ بندی ہی نہیں بلکہ اس پر درست عملدرآمد بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی بیٹرز عموماً فاسٹ بالرز کو بہتر انداز میں کھیلتے ہیں، جبکہ مڈل آرڈر میں ایسے کھلاڑی بھی موجود ہیں جو اسپن کے خلاف خاصے مضبوط ہیں، خصوصاً ہاردک پانڈیا اور تلک ورما۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اکثر ٹیمیں ٹاپ آرڈر کو ہدف بناتی ہیں، مگر پاکستان ماضی میں مڈل اوورز کی منصوبہ بندی میں نقصان اٹھاتا رہا ہے۔ چونکہ پاکستان کے پاس بھی 2 اسپنرز ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان بھارتی بیٹرز کی اننگز کو قابو میں رکھا جائے تاکہ وہ میچ کا رخ نہ بدل سکیں۔

سمیع چوہدری نے مزید نشاندہی کی کہ اوپنر ابھیشک شرما نہایت جارحانہ بیٹنگ کرتے ہیں اور تیز رفتاری سے رنز بناتے ہیں۔ اگر انہیں پاور پلے میں آؤٹ نہ کیا جائے تو وہ اکیلے ہی میچ پاکستان سے دور لے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں ایشیا کپ میں ان کے خلاف پاکستان نے مؤثر حکمتِ عملی اپنائی تھی، اسی نوعیت کی کوئی سرپرائز پلاننگ دوبارہ ضروری ہوگی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ سہولیات، تجربے اور بین الاقوامی ایکسپوژر کے باعث بھارت قومی کرکٹ ٹیم اس مقابلے میں فیورٹ ضرور ہے، اور اب جو ریسورسس پاکستانی ٹیم کے پاس بھی ہے، پاکستان قومی کرکٹ ٹیم بھی اتنی صلاحیت رکھتی ہے کہ کسی بھی مضبوط ٹیم کو شکست دے سکتی ہے۔ اور بھارت بھی اس میں شامل ہے۔














