ماہر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی بانی تحریکِ انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا طبی معائنہ مکمل ہو گیا، تاہم پی ٹی آئی کے کسی رہنما نے جیل میں شرکت نہیں کی۔ ابتدائی رپورٹ ہوم ڈپارٹمنٹ پنجاب کو بھی بھیج دی گئی ہے، جبکہ ڈاکٹروں کی ٹیم اب تفصیلی رپورٹ مرتب کر کے حکومت کو فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے لیے الشفا آئی ٹرسٹ اسپتال میں 10 کمرے مختص، ڈاکٹروں کے نام بھی سامنے آگئے
ہولی فیملی ایمبولینس اور سخت سیکیورٹی
میڈیا رپورٹس کے مطابق قبل ازیں ہولی فیملی اسپتال کی ایمبولینس گیٹ نمبر 5 سے اڈیالہ جیل میں داخل ہوئی اور اطراف میں سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ ایمبولینس میں آنکھوں کے معائنے کے لیے تمام ضروری طبی آلات موجود تھے، جبکہ ڈاکٹروں کے ساتھ ٹیکنیشن بھی شامل تھے۔
میڈیکل ٹیم اور معائنہ
ذرائع کے مطابق سینیئر ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم، جس میں ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹر عارف شامل تھے، نے تقریباً ایک گھنٹے تک عمران خان کا طبی معائنہ کیا۔ میڈیکل ٹیم پی ٹی آئی قیادت کا جیل میں ڈھائی گھنٹے تک انتظار کرتی رہی، لیکن کسی رہنما کے نہ پہنچنے پر معائنہ بغیر ان کی موجودگی کے مکمل کیا گیا۔

جیل ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ ہوم ڈپارٹمنٹ پنجاب کو بھیج دی گئی ہے، جس میں بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول کے چارٹ کے ساتھ آنکھوں سے متعلق تمام تفصیلات شامل ہیں۔ جیل حکام کے مطابق روزانہ آن ڈیوٹی ڈاکٹرز تین مرتبہ عمران خان کا معائنہ کرتے ہیں اور تمام ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے۔
اگلے اقدامات اور حکومت کا مؤقف
ابتدائی معائنہ مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹروں کی ٹیم اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کر کے حکومت کو فراہم کرے گی۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بتایا کہ معائنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ عمران خان کو کس اسپتال منتقل کیا جائے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تفصیلی رپورٹ 16 فروری سے قبل عدالت میں جمع کروائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی اسپتال منتقلی اور میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا فیصلہ کرلیا گیا، طارق فضل چوہدری
اپوزیشن کا مؤقف
اپوزیشن اتحاد نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اسپتال منتقلی نہ ہونے تک پارلیمنٹ ہاؤس میں احتجاج کا اعلان بھی کیا تھا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تفصیلی رپورٹ 16 فروری سے قبل عدالت میں جمع کروائی جائے۔














