پاکستان کے تمام میڈیا اداروں، اینکرز، خطباء اور مقررین کے لیے رمضان المبارک کے دوران ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا ہے تاکہ مقدس مہینے میں دینی تقدس، سماجی امن اور قومی اتحاد کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ ضابطہ اخلاق لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے علماء، مذہبی جماعتوں کے قائدین اور قومی پیغام امن کمیٹی کے اجلاس کے بعد مرتب کیا گیا۔
میڈیا اور مذہبی شخصیات کی ذمہ داریاں
ضابطہ اخلاق کے مطابق رمضان المبارک میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ نہ صرف رائے عامہ تشکیل دیتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور قومی اتحاد کے فروغ میں بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اجلاس میں سفارش کی گئی کہ تمام پروگرامز اور مذہبی اجتماعات میں مقررین اور اینکرز اس بات کو اجاگر کریں کہ اسلام اختلاف کے باوجود امن، برداشت اور مکالمے کا درس دیتا ہے، نہ کہ تشدد یا تصادم کا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے بھارت کو شکست دی آپ کا تو معاملہ ہی بہت آسان ہے، طاہر اشرفی نے افغانستان کو خبردار کردیا
علما اور خطبا کی ہدایات
علماء، مشائخ اور مذہبی راہنما عوام کو درست اور غلط نظریات میں فرق سمجھائیں اور کسی فرد یا گروہ کو کافر قرار دینا ریاست کا اختیار ہے۔ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے مکمل حقوق حاصل ہیں اور پروگرامز میں یہ اصول واضح طور پر پیش کیے جائیں۔ تمام مذہبی شخصیات، ذاکرین اور خطباء پر لازم ہے کہ وہ امت کو جوڑنے، نفرت کم کرنے اور معاشرتی امن کے فروغ میں کردار ادا کریں۔

اختلافات اور حساس موضوعات
اختلافی موضوعات جیسے تراویح کی رکعات یا سحر و افطار کے اوقات پر غیر ضروری بحث سے گریز کیا جائے اور کسی بھی پروگرام، خطاب یا گفتگو میں ایسا مواد شامل نہ کیا جائے جو فرقہ وارانہ نفرت یا عوامی جذبات کو بھڑکائے۔ انبیاء، صحابہ، خلفاء راشدین اور اہل بیت کے احترام کو مقدم رکھا جائے اور کسی بھی مذہبی شخصیت، مسلک یا عقیدے کے خلاف طنزیہ یا اشتعال انگیز گفتگو ناقابل قبول ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:’وہ دن قریب ہے جب کشمیر بنے گا پاکستان‘، مولانا طاہر اشرفی کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی
غیر مسلم شہریوں کے حقوق اور ممنوعہ مواد
اینکرز، مقررین یا مہمان کسی فرد یا گروہ کے ایمان پر فیصلہ صادر نہیں کر سکتے اور غیر مسلم شہریوں کے آئینی، مذہبی یا سماجی حقوق کو محدود یا مشکوک بنانے والی گفتگو منع ہے۔ ایسے واعظین یا مقررین جو سابقہ طور پر نفرت انگیزی یا سماجی اختلاف کا سبب بن چکے ہوں، انہیں پروگرام میں شامل نہ کیا جائے اور سیاسی جماعتوں یا شخصیات کے حوالے سے ایسی گفتگو جو عوام میں نفرت یا انتشار پیدا کرے، ممنوع ہے۔
اجلاس اور شرکا
یہ ضابطہ اخلاق لاہور میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں جاری کیا گیا، جس کی صدارت حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی، اور اجلاس میں مولانا محمد اسلم صدیقی، مولانا عمر فاروق، مفتی فلک شیر، مولانا مبشر رحیمی، مولانا محمد اشفاق پتانی، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا سعد اللہ شفیق، مولانا نعمان حامد، مولانا عبد الباسط، مولانا ابراہیم حنفی، حافظ احتشام الحق آزاد، قاری فیصل امین، قاری ساجد اور دیگر نے شرکت کی۔














