بنگلہ دیش کی الیکشن کمیشن کی جاری کردہ پارٹی وائز ووٹ شیئر کے مطابق بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) 49.97 فیصد ووٹ حاصل کر کے سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے اور وہ ملک میں نئی حکومت بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ووٹ خریدنے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمان
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کو ہونے والے 13ویں قومی پارلیمنٹ کے انتخابات میں بی این پی نے 49.97 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش 31.76 فیصد ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی اور مرکزی اپوزیشن پارٹی کی حیثیت حاصل کر لی۔ نیشنل سٹیزن پارٹی کے امیدواروں نے 3.05 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ 7 حلقوں میں کامیاب آزاد امیدواروں کو مجموعی طور پر 5.79 فیصد ووٹ ملا۔

پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد بی این پی حکومت بنانے کی کارروائی شروع کر رہی ہے۔ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان کی قیادت میں نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب منگل کو دوپہر نیشنل پارلیمنٹ کمپلیکس کے ساؤتھ پلازہ میں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا
انتہائی اہم تقریب کے لیے عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے 13 ممالک کے سربراہان حکومت کو دعوت دی ہے جن میں چین، بھارت، پاکستان، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر، ملیشیا، برونائی، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھی رسمی دعوت دی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عبوری حکومت نے بی این پی قیادت سے مشاورت کے بعد یہ بین الاقوامی دعوت نامے جاری کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ نئی حکومت کے قیام کے دوران عالمی سطح پر روابط کو مستحکم کیا جا سکے۔














