تقریباً 6 ماہ تک افغانستان میں قید رہنے والے 3 مقامی افراد کی بحفاظت واپسی پر چترال کی وادی بمبوریت میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔
اغوا ہونے والے افراد کی شناخت عطا الرحمان، سلیم اللہ اور احتشام الحق کے ناموں سے ہوئی ہے۔ انہیں نصف سال قبل مویشی چراتے ہوئے پاک افغان سرحد سے اغوا کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی سے خطے کو سنگین خطرات لاحق، اقوام متحدہ
ان کی بازیابی کے لیے سینیٹر طلحہ محمود نے کوششیں کیں اور بازیاب ہونے پر خود انہیں ساتھ لے کر وادی پہنچے جہاں مقامی آبادی کی جانب سے ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
اس موقع پر مسلم اور کالاش برادری کے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے، جنہوں نے بازیاب شہریوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ چترال کے عوام پُرامن، مہذب اور تعلیم یافتہ ہیں، اسی لیے انہوں نے اغوا شدگان کی رہائی کو اپنا ذاتی مشن بنایا۔ انہوں نے چترال کی ترقی اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی: پارک سے اغوا ہونے والا 3 سال کا بچہ انس کیسے بازیاب ہوا؟
6 ماہ بعد اپنے پیاروں سے ملنے پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ مقامی رہائشیوں نے سینیٹر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔













