کراچی: پارک سے اغوا ہونے والا 3 سال کا بچہ انس کیسے بازیاب ہوا؟

جمعہ 16 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے علاقے حیدری مارکیٹ فتح پارک میں 11 جنوری کو ایک شخص بادشاہ خان 13 بچوں کو پارک لے کر آیا۔ کچھ وقت پارک میں گزارنے کے بعد بچوں کو لے کر واپس چلے جانا تھا، لیکن ان پر قیامت تب ٹوٹی جب بچوں میں 3 سال کا انس موجود نہیں تھا۔ انہوں نے اہلِ علاقہ کے ہمراہ انس کی تلاش شروع کی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

انس کی لاپتہ ہونے والی ویڈیو

سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک فیملی مبینہ طور پر بچے کو اپنے ہمراہ لے کر جاتے ہوئے دیکھی گئی۔ بچے کے ساتھ ایک خاتون اور ایک مرد موجود ہیں۔ خاتون بچے کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ یہ فوٹیج اہلِ خانہ کو دکھائی گئی اور انہوں نے اپنے بچے کو شناخت بھی کیا۔

مقدمے کا اندراج

جب اہلِ خانہ کو تصدیق ہوئی کہ بچہ اغوا ہو چکا ہے تو بچے کے مبینہ اغوا کا مقدمہ تھانہ حیدری میں درج کیا گیا۔ پولیس کے مطابق 3 سالہ انس 11 جنوری اتوار کے روز فیملی پارک میں آیا تھا۔ بچہ اتحاد ٹاؤن کا رہائشی ہے۔ خاندان کا ایک ہی شخص 12 سے 13 بچوں کو سیر کرانے پارک لایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پنوعاقل میں ڈکیتی کے بعد 7 سالہ بچہ بھی اغوا کرلیا گیا

ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ذیشان شفیق صدیقی کے مطابق حیدری مارکیٹ تھانہ کی حدود فتح پارک بلاک ایف نارتھ ناظم آباد سے اغوا ہونے والا 3 سالہ بچہ محمد انس بحفاظت بازیاب کر لیا گیا۔ اغوا کا واقعہ 11 جنوری 2026 کو شام 07:40 بجے فتح پارک نزد ضیا الدین چورنگی نارتھ ناظم آباد میں پیش آیا تھا۔

مغوی بچے کی شناخت محمد انس ولد محمد نسیم، عمر تقریباً 03 سال کے طور پر ہوئی تھی۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ حیدری میں بجرم دفعہ 363 تعزیراتِ پاکستان اور گمشدہ افراد ایکٹ 2018 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ بچے کے اغوا کی رپورٹ بچے کے والد کے کزن بادشاہ خان کی مدعیت میں درج کی گئی تھی۔

بچے کے والد کو کال موصول ہونے پر پولیس اور بچے کے اہلِ خانہ نے مشترکہ طور پر بچے کو بحفاظت بازیاب کر لیا۔ بچے کی بازیابی کے بعد قانونی کارروائی مکمل کر کے اسے والدین کے حوالے کر دیا گیا۔

بچے کے اہلِ خانہ کے مطابق ان کا بچہ بھٹک گیا تھا، نہ ملنے پر پارک میں موجود ایک فیملی اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ سی سی ٹی وی سامنے آنے کے بعد اس فیملی کی تلاش جاری تھی کہ گزشتہ روز ایک کال موصول ہوئی کہ آپ کا بچہ ہمارے پاس ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: ڈیفنس فیز 5 میں فلیٹ سے زنجیروں میں جکڑی خاتون بازیاب، سابق شوہر فرار

کال کرنے والے لیاقت آباد کے رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بچہ پارک میں تنہا تھا اور اپنے اہلِ خانہ کو تلاش کر رہا تھا۔ ہم نے پارک میں لوگوں سے پوچھا، پھر گارڈ کو ہم نے اپنا نمبر دیا۔ ہم نے بچے کو کسی حادثے سے محفوظ رکھنے کے لیے ساتھ لیا۔ جب ہم نے بچے کے والدین کو تلاش کرنا چاہا تو ناکام ہو گئے، لیکن جب ٹی وی پر خبریں دیکھیں تو رابطہ کرنے میں آسانی ہوئی۔

بچے کے والد محمد نسیم کے مطابق انہیں جب کال آئی تو سب سے پہلے پولیس کو اس بارے میں بتایا، اس کے بعد بچہ پولیس کے ہی حوالے کیا گیا اور بالآخر 5 روز بعد انس اپنے والدین سے مل گیا۔

پولیس کے مطابق کیس کو مزید آگے بڑھانے کے لیے انس کے والد کی منشا دیکھی جائے گی، کیونکہ بظاہر کیس میں اب کچھ بچا نہیں۔ اغوا کا کیس درج تھا جس میں بچہ بازیاب ہو چکا ہے۔ ہم عدالت میں رپورٹ جمع کرائیں گے کہ یہ مقدمہ حل ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: 11 روز سے لاپتا 8 سالہ بچے کی لاش کہاں سے ملی؟

جہاں تک رہی بات اس فیملی کی جس کے پاس بچہ تھا، ان کے خلاف کارروائی کرنا یا نہ کرنا انس کی فیملی کا فیصلہ ہوگا، کیونکہ بچے کو گھر لے جانے کی بجائے پولیس کے حوالے کیا جاتا تو شاید اسی دن بچہ اپنے ماں باپ کے پاس ہوتا۔ اگر چوکیدار کے پاس نمبر تھا تو اس نے وہ نمبر پولیس یا اہلِ خانہ کو کیوں نہیں دیا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp