بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ ڈان جیسے معروف اخبار کی جانب سے نورین نیازی کے نام سے منسوب ایک جعلی اکاؤنٹ کی خبر کو بغیر تصدیق صفحہ اول پر شائع کرنا انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اس عمل سے نہ صرف سنگین سوالات جنم لیتے ہیں بلکہ حکومت کی نیت اور زیر گردش معلومات پر اعتماد بھی مزید مجروح ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کا بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطہ، 20منٹ تک بات چیت ہوئی،علیمہ خان نے تصدیق کر دی
انہوں نے کہا کہ خاندان کا مؤقف ابتدا سے واضح اور یکساں ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کر کے مکمل طبی معائنہ اور علاج فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق بانی کے ذاتی معالجین پہلے ہی حکومت کو قابل قبول ماہر ڈاکٹروں کے متعدد نام فراہم کر چکے ہیں۔
It is deeply shocking and irresponsible that a respected newspaper like Dawn published a planted report from a FAKE account falsely attributed to Noreen Niazi on its front page, without any verification from her. This raises extremely serious concerns for us and further…
— Aleema Khanum (@Aleema_KhanPK) February 16, 2026
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کے ٹیسٹ اور علاج صرف اسی صورت قابل قبول ہوں گے جب وہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف اور خاندان کے نمائندے ڈاکٹر نوشیروان برکی کی جسمانی موجودگی اور نگرانی میں کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے ڈاکٹر عظمیٰ خان کو خاندان کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا گیا تھا، تاہم آگاہ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی کسی بھی بہن کو موجود رہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: میڈیکل ٹیم کا دورہ اڈیالہ جیل، عمران خان کی آنکھوں کے علاج پر اطمینان کا اظہار
بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے ذاتی معالج اور خاندان کے نمائندے کی موجودگی کی مزاحمت انتہائی تشویشناک اور ناقابل قبول ہے۔ علیمہ خان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی ڈاکٹر اور خاندان کے نمائندے کی جسمانی موجودگی کے بغیر حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے، علاج یا صحت سے متعلق کسی بھی دعوے کو قطعی طور پر مسترد کیا جائے گا۔














