سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن میں آج کیا ہوا، جاں بحق افراد کے لواحقین نے کیا دیکھا؟

پیر 16 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سانحہ گل پلازا کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے لیے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل ڈپٹی کمشنر جنوبی کراچی کے آفس پہنچے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو اور متاثرین کے اہل خانہ بھی موجود تھے، کارروائی کے آغاز پر سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت کے لیے دعا کی گئی۔

جوڈیشل کمیشن نے سانحے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور سربراہ کمیشن جسٹس آغا فیصل نے دریافت کیا کہ کیا آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں، جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں واقعے میں شہادتوں کا بہت افسوس ہے، کمیشن کا مقصد مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہے۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازا: شرجیل میمن نے بلڈر کے ساتھ شاپنگ سینٹر کی انتظامیہ کو بھی ذمے دار ٹھہرادیا

جسٹس آغا فیصل نے مزید کہا کہ مالی نقصان کی بھرپائی ہوجاتی ہے جانی نقصان کی نہیں ہوتی، آپ کے لیے کچھ سوالات تیار کیے ہیں، اس سلسلے میں آپ کی معاونت چاہتے ہیں، اگر آپ چاہیں تو یہاں جواب دیں یا ہائیکورٹ آجائیں، بہت سے لواحقین یہاں نہیں ہیں، ہم چاہیں گے کہ تمام لواحقین اپنے بیانات دیں تاکہ تمام حقائق تک پہنچنے میں آسانی ہو۔

جسٹس آغا فیصل کا کہنا تھا کہ ہم عوام اور حکومت سب سے معلومات مانگ رہے ہیں، چاہتے ہیں ریسکیو ورکرز تک بھی رسائی ملے، تمام معلومات کی بنیاد پر جوابات تیار کرنے ہیں۔

جاں بحق شہری عبدالحمید کی والدہ شہناز کا کہنا تھا کہ میری بیٹے سے بات ہوئی تھی کہ رات تک گھر آجائےگا، ساڑھے 10 بجے بات ہوئی تو پتا چلا آگ لگ گئی ہے بس نکل رہا ہوں، وہ ایک بچے کو بچانے کے لیے رک گیا تھا، ہمیں ٹکڑوں میں لاشیں ملی۔

جاں بحق شہری عبدالعزیز کے بھائی نے کمیشن کو بتایا کہ میں ساڑھے 10 بجے گل پلازا پہنچا اس وقت ایک گاڑی فائر بریگیڈ پہنچی تھے، ہماری آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہو رہا تھا، ریسکیو کے لیے آخر میں آئے، ایک ہی گاڑی تھی۔

جسٹس آغا فیصل نے عبدالعزیز سے پوچھا کہ کیا جائے وقوعہ پر ایمبولنسز موجود تھیں؟ عبدالعزیز نے بتایا کہ ایمبولینس موجود رہیں لیکن اندر کوئی نہیں گیا، جسٹس آغا فیصل نے سوال کیا کہ کس چیز سے آگ بجھائی جا رہی تھی؟ عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ پانی یا کیمیکل تھا لیکن آگ بجھ نہیں رہی تھی، جب آگ پر قابو ہوا تو عمارت گرنا شروع ہوگئی تھی۔

سربراہ جوڈیشل کمیشن جسٹس آغا فیصل نے عبدالعزیز سے دریافت کیا کہ کیا گل پلازا کے دروازے کھلے تھے؟جس پر عبدالعزیز نے بتایا کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ دروازے بند تھے، گل پلازا کے صدر کہہ رہے تھے کہ دروازے کھلے تھے۔

جسٹس آغافیصل نے ایک اور جان بحق شہری عارف کے والد حفیظ سے دریافت کیا کہ آپ نے کیا دیکھا دروازے کھلے تھے یا بند تھے؟ اس پر عبدالحفیظ کا کہنا تھا کہ عقبی حصے میں دھواں شدید تھا ریسکیو والے بھی اندر نہیں جاسکتے تھے، اندر سے بچاؤ کی آوازیں آرہی تھیں، دھواں تھا تو نظر نہیں آرہا تھا، ہمیں کہا گیا کیوں خودکشی کرنا چاہتے ہو عمارت گرنے والی ہے، 23جنوری کو ڈی این اے کی مدد سے بیٹے کی شناخت ہوئی، واقعے کے دن سوا 10 بجے جب آگ لگی تو رابطہ ہوا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فون پر یہی بتایا کہ مارکیٹ میں آگ لگ گئی ہے، آگ لگنے کے بعد ہمیں امید نہیں تھی کہ کچھ بچا ہوگا، 29جنوری کو ڈی این اے میچ ہوا تو بس تابوت بنا ہوا دے دیا گیا، فائر بریگیڈ اور ریسکیو موجود تھے لیکن پانی کی قلت تھی، واقعے کے 2 گھنٹے بعد ٹینکر آیا، ریسکیو آپریشن صبح شروع کیا گیاتھا، اگر رات میں ہی ریسکیو شروع کر لیتے تو بہت سے جانیں بچ سکتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمارت کی کھڑکیوں پر لوگوں کے ہاتھ اور فون کی لائٹ نظر آرہی تھی، جس پر ایک ماہر نے اجلاس کے دوران سوال کیا کہ یہ کب کی بات ہے، والد حفیظ نے بتایا کہ میں نے رات 2 بجے تک وہاں دیکھا۔

جاں بحق حیدر علی کے والد محمد ہادی نے بتایا کہ میرا بیٹا دبئی کراکری کے ساتھ دکان پر کام کرتا تھا، واقعے کا ٹی وی سے پتا چلا، 12 بجے وہاں پہنچا، گورنر سندھ موجود تھے، بظاہر ایسا لگتا ہے آگ حادثہ نہیں، اتنی بڑی آگ خود سے نہیں لگ سکتی، 4 دن تک بیٹا لاپتا تھا، گھر نہیں جا سکتا تھا کہ گھر والے پوچھتے تھے بیٹا کہاں ہے، ہمیں حکومت سے صرف انصاف چاہیے۔

جاں بحق ہونے والے سلیم کے بیٹے محمد روحان نے اجلاس میں بتایا کہ آگ کے بعد افراتفری مچی ہوئی تھی، ادارے نام کے تھے، پروفیشنل لیول کا کام نہیں کررہے تھے، میں ایک ہفتے تک وہاں موجود رہا ہوں، شروع میں ایک گاڑی پھر پون گھنٹے بعد دوسری گاڑی آئی۔ لوگوں سے سنا کہ گاڑی میں ڈیزل نہیں، منصوبہ بندی کے ساتھ کام نہیں تھا، مسجد کی طرف ایک شخص کھڑکی سے لائٹ مار رہا تھا، اتنے اداروں کے باوجود اس کو بچا نہیں سکے،کیا کرین کی مدد سے دیوار یا گرل توڑ کر لوگوں کو بچایا نہیں جاسکتا تھا؟

محمد روحان کا کہنا تھا کہ لائٹیں بند، راستے بند، نہ ریسکیو کے انتظامات، سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ورثا کو دھکے مارے گئے، ہمارے پیارے اندر پھنسے تھے ہمارے ساتھ برا رویہ اختیار کیا گیا، خود سے لوگ نکلے، اداروں نے کسی کو نہیں نکالا۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان، 2 افسران معطل

جاں بحق ہونے والے محمد حنیف کے بیٹے فہیم نے اجلاس میں بتایا کہ میرا بھائی بھی عمارت میں موجود تھا، بلال نے عمارت سے چھلانگ ماری، جسٹس آغا فیصل نے فہیم سے پوچھا کہ ابھی بھائی کی طبیعت کیسی ہے وہ بات کرنا چاہیں گے؟ اگر کچھ روز میں وہ چاہیں تو ہمارے پاس آجائیں، اگر وہ چاہیں تو ہم ان کے پاس چلے جائیں گے۔ فہیم نے بتایا کہ اندر بہت اندھیرا تھا۔ 10 منٹ میں تنویر پاستا نے لائٹ بند کروا دی تھی، پانی کی کمی کا سامنا تھا۔

جاں بحق عمر نبیل کے بھائی راحیل نے بتایا کہ رات سوا 11 بجے گل پلازا پہنچا، ایک اسنارکل اور2 فائر ٹینڈر موجود تھے، عقبی راستے میں رکاوٹوں کی وجہ سے اسنارکل کو مشکلات تھیں، بھائی عمر نبیل کی ہم زلف سے بات ہوئی، بھائی نے بتایا کہ کسی کراکری کی دکان میں ہیں، بھائی نےکہا کہ دھواں زیادہ ہے، سانس لینے میں مشکل ہے، فائر بریگیڈ موجود تھی، آلات موجود نہیں تھے، اسنارکل بھی صرف پانی ڈالنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، فائر بریگیڈ کو خود نہیں پتا تھا کس نوعیت کی آگ ہے، بلڈنگ کے اندر اعلان کا انتظام تھا ،لیکن اعلان نہیں کیا گیا، عمارت میں دھواں بھرگیا تھا، باہر نکلنے کی کوئی جگہ نہیں تھی، دکانوں میں موجود کھڑکیوں کو سامان سے بند کیا ہوا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات

’ٹی وی کی آواز کم کرنے کو کیوں کہا‘، بیوی نے شوہر کو چاقو مار کر قتل کر دیا

ایران پر ممکنہ حملہ: برطانیہ کا امریکا کو فوجی اڈے دینے سے انکار

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ