سینیئر سیاستدان شیر افضل مروت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹرز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ عمران خان دائیں آنکھ سے آخری لائن نہیں پڑھ سکتے۔ اس عمر میں ہم بھی آخری لائن نہیں پڑھ سکتے۔ یہ کوئی سنجیدہ یا سنگین صورتحال نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا خیال تھا کہ عمران خان کی 85فیصد آنکھ ضائع ہو گئی ہے لیکن آنکھ ضائع نہیں ہوئی انہیں ایک انجیکشن لگ چکا ہے اور دوسرا انجیکشن انہیں 25 کو لگے گا اس سے بلڈ کا کلاٹ ختم ہو گیا ہے۔
ڈاکٹرز نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ عمران خان آخری لائن نہیں پڑھ سکتے۔ اس عمر میں ہم بھی نہیں پڑھ سکتے۔
کوئی سنجیدہ یا سنگین صورتحال نہیں: شیر افضل مروت کی پی ٹی آئی دھرنے میں گفتگو۔
کے پی میں سڑکیں کیوں بند لوگوں نے تو پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے انکو کیوں سزا؟— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) February 16, 2026
راستوں کی بندش سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے لوگوں نے پی ٹی آئی کو حکومت دی ہے تو انہوں نے سڑکیں کیوں بند کیں؟ کے پی میں پل اور سڑکیں بند کرنے سے کچھ نہیں ہو گا بند کرنا ہے تو اسلام آباد بند کریں۔ اسلام آباد میں دھرنے دیں۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے کی رپورٹ الشفا ٹرسٹ آئی اسپتال کے شعبہ امراضِ چشم نے جاری کردی۔
یہ بھی پڑھیں: آپ نے عمران خان کو آنکھ کی بیماری سے متعلق جھوٹ کیوں بولا؟ شیر افضل مروت محمود اچکزئی و دیگر پر برس پڑے
میڈیکل بورڈ کے مطابق دائیں آنکھ کی بینائی میں واضح بہتری آئی ہے۔ دائیں آنکھ کی نظر 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 جزوی تک پہنچ گئی ہے۔ بائیں آنکھ کی نظر نارمل حد میں ہے اور معائنے میں تسلی بخش رپورٹ سامنے آئی ہے۔ چشمہ لگانے کے بعد بائیں آنکھ کی نظر 6/6 تک ریکارڈ کی گئی۔














