سینٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس کی عمران خان سے آج ملاقات کا امکان، قیادت اڈیالہ جیل روانہ

منگل 17 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کی آج سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا امکان ہے۔

تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے ملاقات کی یقین دہانی کروا دی گئی ہے، جس کے بعد پارٹی قیادت پارلیمنٹ ہاؤس سے اڈیالہ جیل کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: عمران خان کو جیل میں کیا سہولیات میسر ہیں؟ تفصیلات پہلی بار منظرعام پر آگئیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں زیر حراست ہیں، اور سیاسی حلقوں کی نظریں اس ممکنہ ملاقات پر مرکوز ہیں، جس سے آئندہ سیاسی منظرنامے پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

کیا محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کے لیے کوشش کی؟ پارٹی قیادت کو بانی پی ٹی آئی کی صحت پر توجہ دینی چاہیے، بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل میں ملاقاتوں کا آج مقررہ دن ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں نہ ہونے سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ عدالتوں کے احکامات، جیل رولز اور طے شدہ ایس او پیز کے مطابق ملاقات کرانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اگر باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتیں تو بانی پی ٹی آئی کی صحت، علاج اور تجویز کردہ ٹریٹمنٹ سے متعلق بروقت آگاہی ملتی اور ابہام پیدا نہ ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے: مشکلیں برداشت نہیں کرسکتے تھے تو کرکٹ کلب بنا لیتے، صدر زرداری کا عمران خان پر طنز

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ جیل میں قید شخص کی صحت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور یہ ان کا بنیادی حق ہے کہ انہیں فیملی اور وکلا تک رسائی دی جائے۔ ملاقاتوں میں رکاوٹ کو انہوں نے غیر انسانی رویہ قرار دیا اور کہا کہ بچوں اور اہل خانہ سے رابطہ نہ ہونے سے بے چینی بڑھتی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ کوششوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ جو بھی مثبت کردار ادا کرے، اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ تاہم اس وقت پارٹی قیادت کو بانی پی ٹی آئی کی صحت، قانونی معاملات اور رہائی پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہیے جنہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملاقاتوں کا سلسلہ معمول کے مطابق بحال ہو جائے تو کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے اور غیر ضروری احتجاجی صورتحال سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دل کے دورے کے بارے میں سب سے بڑا غلط فہمی کیا ہے؟

غزہ کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان

اگلے 12 سے 18 ماہ میں لاکھوں ملازمین اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں

وزیراعظم کا دورۂ امریکا: عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال

سپریم کورٹ: سروس میٹر کیس میں وفاقی حکومت کی اپیل خارج، تاخیر معاف کرنے کی استدعا مسترد

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ