ملک کے تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ، مفتیانِ عظام، مذہبی جماعتوں کے قائدین اور مدارسِ عربیہ کے ذمہ داران نے رمضان المبارک کے دوران بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ اور قیامِ امن کے لیے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کی اپیل کی ہے۔
اس کے ساتھ مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر عبادتگاہوں کی سیکیورٹی سے متعلق جاری ہدایات پر عمل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: معاشرے کو رہنے کے لائق بنانے کے لیے عفو و درگزر سے کام لینا چاہیے، بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس
یہ اپیل وزارتِ داخلہ لاہور کے دفتر میں منعقدہ اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کی گئی۔

اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کی جبکہ وزیراعظم پاکستان کے کوآرڈینیٹر اور قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان کے نمائندے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی بھی شریک ہوئے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
سانحہ ترلائی راولپنڈی، بلوچستان اور باجوڑ میں ہونے والے حملوں کو فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کے کارندوں کی کارروائیاں قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان عناصر کا نہ اسلام سے تعلق ہے اور نہ ہی انسانیت سے۔
اعلامیے کے مطابق معرکہ حق کی کامیابی کے بعد ہندوستان، پاکستان اور اسلام دشمن عناصر متحد ہوکر ملک میں دہشت گردی اور حملوں کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ترلائی، بلوچستان، باجوڑ، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر مقامات پر حملے کرنے والوں کو اسلام اور پاکستان کے دشمن قرار دیا گیا۔
اعلامیے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ملک کے تمام مکاتبِ فکر دہشت گردی کے خلاف ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ رمضان المبارک میں امن و امان کے قیام کیلئے ضلع، تحصیل، ڈویژن، صوبائی اور مرکزی سطح پر آئمہ مساجد، خطبا اور مساجد انتظامیہ کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
عوام الناس سے اپیل کی گئی کہ وہ مساجد انتظامیہ اور مقامی پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ پیغامِ پاکستان ضابطہ اخلاق کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔

علما و مشائخ اور مفتیانِ عظام نے تاجر برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ رمضان المبارک کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے روزمرہ اشیائے ضروریہ، بالخصوص افطار اور سحر میں استعمال ہونے والی اشیا میں ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں اور روزہ داروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔
اجلاس میں علامہ محمد حسین اکبر، مولانا اسد عبید، مولانا اسلم صدیقی، حافظ مقبول احمد، علامہ توقیر عباس، مفتی محمد کریم خان، علامہ آصف میر، مولانا فہیم الحسن تھانوی، مولانا نعمان حامد، مولانا محمد خان، مفتی شیخ عبد اللطیف، حافظ ندیم شمس، ڈاکٹر مفتی کریم خان، سید واجد علی گیلانی، حافظ کاظم رضا، مولانا اشفاق کاظمی، اعجاز حسین مہدی، عامر حمدانی، مفتی گل رضا، مولانا عمیر مدنی، مولانا فہیم حسن، علامہ اشفاق علی چشتی، مولانا توقیر عباس، مولانا شفقت عباس، ہوم سیکرٹری پنجاب، پولیس و سکیورٹی اداروں کے نمائندگان اور دیگر اکابرین نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: سانحہ جڑانوالہ: بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مذہبی اسکالرز و سیاسی عمائدین کا مشترکہ اعلامیہ جاری
اعلامیے کے مطابق حکومتِ پنجاب اور حکومتِ پاکستان ہر سطح پر علما و مشائخ اور محراب و منبر کے ساتھ روابط کو مزید مستحکم بنائیں گی تاکہ ملک میں امن، رواداری اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔














