وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنا موٹاپے یا وزن زیادہ ہونے والے افراد کے لیے وزن کم کرنے میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: بھاری بھرکم غذائیں کھانا دماغ پر کیا اثر ڈالتا ہے؟
بی بی سی کے مطابق ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ ہفتے کے کچھ دن محدود کھانے اور باقی دن معمول کے مطابق کھانے کی پریکٹس وزن کم کرنے یا زندگی کے معیار میں بہت فرق نہیں ڈال سکتی۔
تاہم محققین کا کہنا ہے کہ وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنا جسمانی نظام کے کچھ افعال میں مثبت تبدیلیاں لا کر مجموعی صحت بہتر کر سکتا ہے اگرچہ اس کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔
وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے کی مثالیں
5:2 ڈائیٹ (ہفتے کے 2 دن محدود کھانا)
روزانہ تقریباً 8 گھنٹے کے محدود وقت میں کھانا
ہر دن مقررہ وقت کے دوران کھانا
دنوں کے درمیان کھانے کی مقدار بدلنا (کچھ دن زیادہ اور کچھ دن کم)
تحقیق کے دوران 22 پچھلی مطالعات کے نتائج دیکھے گئے جن میں تقریباً 2,000 بالغ افراد شامل تھے۔ مقصد یہ تھا کہ معلوم کیا جا سکے کہ چھوٹے عرصے کے وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے (12 ماہ تک) وزن کم کرنے میں معمولی غذائی مشورے یا بغیر مشورے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیے: کونسی غذائیں جسم کی خوشبو کو پرکشش بناتی ہیں؟
نتائج کے مطابق روایتی غذائی مشورے جیسے کیلوری کم کرنا اور صحت مند کھانا کھانا، وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہیں جبکہ وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے نے وزن یا زندگی کے معیار میں بہت فرق نہیں ڈالا۔
محققین کے تبصرے
تحقیق کے مرکزی مصنف لویس گیریگنانی نے کہا کہ وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنا کچھ افراد کے لیے مناسب آپشن ہو سکتا ہے لیکن موجودہ شواہد سوشل میڈیا پر چلنے والی مقبولیت کو جواز نہیں دیتے۔
سینیئر مصنف ایوا میڈرڈ نے کہا کہ ہر فرد مختلف ہوتا ہے اور بعض افراد کو اس سے فائدہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کو ہر موٹاپے والے بالغ کے معاملے میں کیس ٹو کیس مشورہ دینا ہوگا۔
تحقیق کی حدود
زیادہ تر مطالعات میں کم افراد شامل تھے اور سخت طریقہ کار استعمال نہیں ہوا۔
وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے کے مختلف اقسام کے اثرات مرد و خواتین، مختلف بی ایم آئی والے افراد اور مختلف ممالک میں الگ ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟
مزید تحقیق درکار ہے کہ یہ طریقہ ذیابیطس ٹائپ 2 اور دیگر صحت کے مسائل پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
ماہرین کا نقطہ نظر
یونیورسٹی کالج لندن کے ڈاکٹر باپٹسٹ لیوراں نے کہا کہ مجموعی طور پر مطالعات ظاہر کرتی ہیں کہ وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنا زیادہ فائدہ نہیں دیتا۔
یونیورسٹی آف آکسفورڈ پروفیسر کیتھ فریں نے کہا کہ وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے کو وزن کم کرنے کا آسان طریقہ کے طور پر فروغ دیا گیا لیکن یہ دعوے زیادہ حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موٹاپے کے لیے کوئی ‘فوری حل’ نہیں صرف کیلوری کم کرنا مؤثر ہے۔
الغرض بہت سے لوگ وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنا وزن بڑھنے سے روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں حالانکہ یہ تحقیق اس پہلو پر نہیں ہوئی۔
یہ طریقہ کولیسٹرول، بلڈ شوگر کم کرنے اور نظام ہضم بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
برطانیہ میں تقریباً 1.6 ملین بالغ افراد وزن کم کرنے کے لیے ویگووی اور مونجارو جیسے انجیکشن استعمال کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
حالیہ تحقیق کے مطابق وزن کم کرنے والی جابز بند کرنے والے افراد روایتی ڈائیٹنگ کے مقابلے میں 4 گنا تیزی سے وزن واپس حاصل کر لیتے ہیں۔














