تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیراہتمام پارلیمنٹ میں دھرنا جاری ہے، تحریک کی قیادت نے عمران خان کے واضح پیغام کی روشنی میں فوری اور غیر مشروط مطالبات پیش کردیے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیرصدارت اجلاس ہوا، جس میں عمران خان کی صحت سے متعلق امور پر گفت و شنید کی گئی۔
تحریک کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کی تاخیر یا غیر سنجیدگی ناقابلِ قبول ہوگی۔
تحریک کی جانب سے جاری اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر فیصل کو بلا تاخیر عمران خان تک مکمل اور نجی رسائی دی جائے تاکہ وہ آزادانہ طور پر طبی معائنہ کر سکیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اب تک کیے گئے تمام میڈیکل ٹیسٹ، تشخیصی رپورٹس، ایکسرے، اسکینز اور لیبارٹری نتائج کی مصدقہ نقول فوری طور پر ذاتی معالجین کے ساتھ شیئر کی جائیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ ذاتی ڈاکٹرز کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ سرکاری میڈیکل بورڈ کی موجودگی یا کسی دباؤ کے بغیر اپنی آزادانہ طبی رائے مرتب کریں، جبکہ عمران خان کی صحت کے پیشِ نظر انہیں باقاعدگی اور تسلسل کے ساتھ فالو اپ معائنے کی اجازت بھی دی جائے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحریری طور پر واضح کرے کہ علاج، تشخیص اور طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر کیوں پیش آئی اور آئندہ ایسی غفلت کے اعادہ نہ ہونے کی یقین دہانی کرائے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی قیادت، رشتے دار اور سوشل میڈیا کے جہادی عمران خان کی رہائی نہیں چاہتے، خواجہ آصف
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی بہانہ بازی یا نمائشی اقدامات قبول نہیں کیے جائیں گے، کیونکہ عمران خان کی صحت کا معاملہ سیاسی نہیں بلکہ انسانی اور آئینی ذمہ داری کا تقاضا ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔














