معروف قانون دان فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان سے متعلق ڈیل کی خبریں ’اوور ریٹڈ‘ ہیں اور وہ کسی بھی غیر مشروط سمجھوتے پر تیار نہیں ہوں گے۔ اگر کوئی ڈیل کرنی ہوتی تو 3سال پہلے کی جا سکتی تھی، موجودہ حالات میں ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان ڈیل کے بجائے 500 سال جیل میں رہنے کو تیار ہیں، فواد چوہدری
وی نیوز کے پروگرام صحافت اور سیاست میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ ڈیل کے لیے بنیادی شرط ضمانت ہوتی ہے۔ تاہم، عمران خان اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
’جیل کا عرصہ گزارنے، اہلیہ اور خاندان کے مشکلات برداشت کرنے اور انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد یوٹرن لینا سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے‘۔
فیصل چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش موجود ہے۔ بینائی متاثر ہونے، دانتوں اور آنکھوں کے مسائل کے علاوہ ٹینیٹس جیسی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
’صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو انہیں اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے‘۔
مزید پڑھیے: بیرون ملک یا بنی گالہ، عمران خان کی ڈیل ہوگئی؟ مریم نواز کا کھڑاک، سابق آرمی چیف بارے افسوسناک خبر
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک بین الاقوامی شناخت رکھتے ہیں، اس لیے ان سے متعلق کسی بھی معاملے کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جسے پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
فیصل چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ مختلف رہنماؤں کے بیانات میں تضاد اور دھڑے بندی نے پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے، جس کا براہ راست اثر عمران خان پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جذباتی فیصلوں اور غیر مربوط احتجاجی سیاست سے نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ اگر قیادت خود منظم نہ ہو تو کارکن متحرک نہیں ہوتے۔
مزید پڑھیں: عمران خان مذاکرات کے دشمن، کیا اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ناکام ہوگئی؟
قانونی ٹیم سے متعلق سوال پر فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ چند وکلا کور ٹیم میں شامل ہیں جبکہ باقی زیادہ تر سیاسی وکلا ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے خلاف مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان کی قانونی بنیاد کمزور ہے، تاہم عدالتوں میں درخواستیں التوا کا شکار ہیں جس سے انصاف کے عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
فیصل چوہدری نے کہا کہ ملک اس وقت معاشی، آئینی اور گورننس کے بحران سے دوچار ہے اور سیاسی استحکام کے لیے سنجیدہ مکالمہ ناگزیر ہے۔ ان کے بقول عمران خان کو کسی نہ کسی صورت باہر آنا چاہیے تاکہ سیاسی عمل آگے بڑھ سکے، چاہے اسے کچھ لوگ ڈیل کا نام ہی کیوں نہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کی ذات پر سیاست کرنے کے بجائے منظم حکمت عملی اپنائے، نرم لہجے کے رہنماؤں کو آگے لائے اور کارکنوں کی قدر کرے کیونکہ پارٹی کا اصل سرمایہ کارکن ہی ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کے ہوتے ہوئے عمران خان رہا نہیں ہوسکتے، فیصل چوہدری
فیصل چوہدری نے مزید کہا کہ سیاسی قیادت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی اور ملک کو جاری بحرانوں سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔













