پنجاب پولیس میں اصلاحات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، جو صوبے کی تاریخ میں ایک انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ بن رہا ہے۔ شفافیت، احتساب، شہریوں کے تحفظ اور پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر مرکوز یہ اصلاحات وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں نافذ کی جارہی ہیں۔
پولیس کو ایک عوام دوست اور احترام کی علامت بنانے کا ہدف رکھنے والا یہ منصوبہ صوبے بھر میں کرپشن اور طاقت کے غلط استعمال کو ختم کرنے کا عزم رکھتا ہے تاکہ شہری پولیس اسٹیشنوں میں خود کو محفوظ اور باوقار محسوس کریں۔ حالیہ برسوں میں پولیس کی شکایات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے عوامی اعتماد میں کمی آئی تھی، لیکن اب یہ اصلاحات اس خلا کو پر کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب پولیس کے 15 افسران کو ترقی دے دی گئی، نوٹیفکیشن جاری
لاہور میں حال ہی میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پولیس افسران کو سخت ہدایات جاری کیں۔ اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ پولیس کو عوام کی خدمت گزار اور احترام کرنے والی فورس بنانا ضروری ہے، اور کرپشن، بدتمیزی یا طاقت کے غلط استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تاکید کی کہ تمام پولیس افسران باڈی کیمرے پہنیں تاکہ ہر تعامل ریکارڈ ہو، اور شہریوں کو سر یا میڈم کہہ کر مخاطب کیا جائے۔
مریم نواز نے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن دی کہ پولیس اسٹیشنوں کے باہر پینک بٹنز نصب کیے جائیں، تحقیقات کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ لازمی بنائی جائے، اور چھوٹی شکایات 2 سے 3 گھنٹوں میں حل کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘پولیس کو خوف کی علامت نہیں، احترام کی علامت بننا چاہیے،’ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ خود شہریوں سے فیڈ بیک لیں تاکہ اصلاحات کا عمل مزید موثر ہو۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب پولیس کی سال 2025 میں خطرناک مجرمان کے خلاف بڑی کارروائیاں، لاکھوں اشتہاری گرفتار
اجلاس میں 14,000 باڈی کیمرے اور 700 پینک بٹنز کی تنصیب کی منظوری بھی دی گئی، جس کے لیے 1.7 ارب روپے کی فنڈز مختص کیے گئے۔ مزید برآں، آن لائن ایف آئی آر ٹریکنگ سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا، جس سے شہری گمشدہ شناختی کارڈز اور دستاویزات کی آن لائن رپورٹ درج کر سکیں گے۔
گزشتہ سال جاپان کے دورے کے دوران، مریم نواز نے جاپانی پولیس کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور وہاں کی جدید ٹیکنالوجی سے متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں پنجاب پولیس کو انفراریڈ، الٹراساؤنڈ ٹیک، ٹریفک مینجمنٹ، حادثات کنٹرول اور موسم کی وارننگ سسٹمز سے آراستہ کرنے کا پلان تیار کیا گیا، جو لاہور میں پائلٹ پروجیکٹ کی صورت میں شروع کیا جائے گا۔
کیمروں کی تنصیات کا عمل شروع
اس اصلاحاتی منصوبے کے تحت اب عملی اقدامات کا آغاز ہو گیا ہے۔ پنجاب پولیس نے تھانوں میں کیمروں کی تنصیب اور عوامی ڈیلنگ کو ریکارڈ پر لانے کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے 84 تھانوں میں نصب کیمروں کی تعداد 3 سے بڑھا کر 6 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
منصوبے کے تحت مزید 3 کیمرے برآمدے، انویسٹی گیشن روم اور داخلی دروازے پر نصب کیے جائیں گے، جبکہ ایس ایچ او روم، فرنٹ ڈیسک اور حوالات میں خراب کیمروں کو بھی فوری طور پر آپریشنل کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق لاہور کے تمام تھانوں میں باڈی کیمز کی فراہمی بھی شروع کر دی گئی ہے اور ہر تھانے کو اہلکاروں کے لیے کم از کم 10 سے 20 باڈی کیم فراہم کیے جائیں گے۔ ان کیمروں کے ذریعے پولیس اور عوام کے درمیان ہونے والے رابطے اور معاملات مکمل طور پر ریکارڈ کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ عوام کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیلنگ کیمروں سے ہٹ کر نہ کی جائے اور احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ کچھ افسران نے اسے مریم کا انصاف کا نام دیا ہے، جو عوامی اعتماد بحال کرنے کا وعدہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب پولیس کے صوبہ بھر میں کومبنگ آپریشنز اور موک ایکسرسائز
حکام کا کہنا ہے کہ کیمروں کی تنصیب مکمل ہوتے ہی تھانوں کے ریکارڈ اور بیک اپ سسٹم کی وقتاً فوقتاً چیکنگ بھی کی جائے گی تاکہ شفافیت کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ٹریفک بہتری اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپس بھی متعارف کی جا رہی ہیں۔
اگرچہ کچھ تنقیدی آوازیں اب بھی موجود ہیں کہ پولیس کی رویہ میں تبدیلی کے لیے مزید وقت درکار ہے، لیکن یہ اقدامات نہ صرف پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے بلکہ شہریوں کا اعتماد بھی بحال کریں گے، جو پنجاب پولیس اصلاحات پروجیکٹ کا بنیادی مقصد ہے۔














