آج کے پاکستانی گھر میں ایک عجیب خاموش کشمکش چل رہی ہے۔ ایک طرف والدین ہیں جو اپنی تربیت کو کامیاب سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے سختی، نظم و ضبط اور ’بڑوں کی بات ماننے‘ کے اصولوں پر پرورش پائی۔
دوسری طرف آج کے بچے ہیں، جن کی دنیا موبائل اسکرین کے اندر سمٹ آئی ہے۔ یہ دو دنیائیں ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے اجنبی ہوتی جا رہی ہیں۔
ہمارے ہاں تربیت کا مطلب اکثر حکم دینا اور بچوں سے بلا چون و چرا اطاعت کروانا سمجھا جاتا ہے۔ ’ہم نے تو ایسے ہی سیکھا تھا‘ والدین کا سب سے مضبوط جملہ بن چکا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج کا زمانہ بھی ویسا ہی ہے؟ کیا آج کے بچے بھی وہی دنیا دیکھ رہے ہیں جو ہم نے دیکھی تھی؟ یقیناً نہیں۔
ماضی میں بچے کی دنیا گھر، محلہ اور اسکول تک محدود تھی۔ آج وہ انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ چند سیکنڈ میں وہ ایسی معلومات تک پہنچ جاتا ہے جو پہلے بڑے بڑے کتب خانوں میں بھی مشکل سے ملتی تھیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے Facebook، Instagram اور TikTok نے نوجوانوں کے سوچنے، بولنے اور خود کو دیکھنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ یہ پلیٹ فارمز موجود ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم بطور والدین ان کی دنیا کو سمجھے بغیر صرف ڈر کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر والدین بچوں کو موبائل یا انٹرنیٹ سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا اب بچوں کی زندگی کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔
اسے مکمل طور پر روکنا ممکن بھی نہیں اور فائدہ مند بھی نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی ڈیجیٹل دنیا کو سمجھیں۔ وہ کن لوگوں کو فالو کرتے ہیں؟ کیا دیکھتے ہیں؟ کن باتوں سے متاثر ہوتے ہیں؟ یہ سوالات صرف نگرانی کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے کے لیے ہونے چاہئیں۔
آج کے بچوں پر دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ صرف اچھے نمبروں کے لیے نہیں بلکہ اچھا نظر آنے، مقبول ہونے اور دوسروں سے آگے نکلنے کے دباؤ میں بھی جیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ’کامیاب زندگیوں‘ کو دیکھ کر وہ اپنی عام سی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔
اس دباؤ کے نتیجے میں کئی بچے خاموشی سے ذہنی تناؤ اور بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر World Health Organization بھی خبردار کر چکا ہے کہ نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں، اور ڈیجیٹل ماحول اس میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اب بھی بچوں کے جذبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اگر بچہ اداس ہو تو کہا جاتا ہے ’یہ کوئی مسئلہ نہیں، ہم نے بھی سب برداشت کیا ہے۔‘
اگر وہ پریشان ہو تو جواب ملتا ہے ’اتنی چھوٹی عمر میں ڈپریشن کیسا؟‘ یہی جملے بچوں کو والدین سے مزید دور کر دیتے ہیں۔ وہ پھر اپنے سوالات اور الجھنوں کے جواب انٹرنیٹ یا دوستوں میں ڈھونڈنے لگتے ہیں۔
اصل مسئلہ نسلوں کے درمیان مکالمے کی کمی ہے۔ ہم بولتے بہت ہیں، سنتے کم ہیں۔ والدین اکثر بچوں کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ حالانکہ بچوں کو نصیحت سے پہلے توجہ اور سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بچہ محسوس کرے کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے تو وہ آہستہ آہستہ والدین پر اعتماد کرنے لگتا ہے۔
تربیت کا مطلب صرف کنٹرول کرنا نہیں بلکہ رہنمائی کرنا ہے۔ بچے کو یہ احساس دلانا کہ وہ غلطی کرے تو والدین اس کے دشمن نہیں بلکہ اس کے ساتھی ہیں۔ اگر ہم ہر غلطی پر سخت سزا دیں گے تو بچہ سچ بولنے کے بجائے چھپانا سیکھے گا۔ اور یہ چھپانا آگے چل کر بڑے مسائل کو جنم دیتا ہے۔
حل مشکل نہیں، مگر مستقل مزاجی مانگتا ہے۔ روزانہ چند منٹ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سننا، ہفتے میں ایک دن گھر میں سب کو اکٹھا بٹھا کر کھل کر گفتگو کرنا، اور خود بھی ٹیکنالوجی کے بنیادی استعمال کو سیکھنا—یہ چھوٹے چھوٹے قدم والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے کم کر سکتے ہیں۔
آخر میں بات بہت سادہ ہے آج کے بچے بدتمیز نہیں، وہ مختلف دنیا میں جی رہے ہیں۔ اگر ہم اس دنیا کو سمجھے بغیر انہیں پرانے اصولوں میں قید رکھنا چاہیں گے تو فاصلے بڑھیں گے۔ لیکن اگر ہم مکالمے، اعتماد اور محبت کے ساتھ ان کے ساتھ چلیں تو یہی ڈیجیٹل دور ہمارے گھروں میں سمجھداری اور قربت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
تربیت کا سفر سختی سے نہیں، سمجھ بوجھ سے طے ہوتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














