بنگلہ دیش چترا لیگ سے وابستہ ایک گروپ نے بدھ کی صبح نوکھالی میں عوامی لیگ کے ضلعی دفتر میں مبینہ طور پر زور زبردستی سے داخل ہوکر نعرے لگائے۔
قانون نافذ کرنے والے حکام کے مطابق تقریباً 30 سے 35 افراد صبح 8 بجے عوامی لیگ کے نوکھالی ضلعی دفتر، جو ٹاؤن ہال مور، ماجدی میں واقع ہے، پہنچے۔ دفتر گزشتہ 18 ماہ سے بند تھا۔ گروپ نے تالہ توڑا، دفتر میں داخل ہوا اور ‘جئے بنگلا’ اور ‘جئے بنگابندو’ کے نعرے لگائے، جبکہ ایک بینر لٹکانے کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کی نئی کابینہ نے حلف اٹھالیا، وزیراعظم طارق رحمان نے 5 اہم وزارتیں اپنے پاس رکھ لیں
پولیس کو اطلاع ملنے کے فوراً بعد موقع پر پہنچی۔ 5 مشتبہ افراد کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا، اور دیگر ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
صبح کے وسط تک دفتر کے باہر مزید پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ گواہوں نے بتایا کہ گرفتار افراد پولیس گاڑی میں موجود تھے، جبکہ عوامی دلچسپی رکھنے والے لوگ علاقے میں جمع تھے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں شرکاء کو بینر تھامے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس پر ‘نوکھالی ضلعی عوامی لیگ دفتر’ لکھا ہے اور نعرے بازی کی جا رہی ہے۔ گروپ میں ایک بزرگ شخص بھی دکھائی دیا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان سے احسن اقبال کی ملاقات، دورہ پاکستان کی دعوت
مقامی اطلاعات کے مطابق 3 اگست 2025 کو اسی دفتر پر حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی تھی، جس کے دوران اینٹی ڈسکرمنیشن مظاہروں کے دوران فائرنگ کے واقعات ہوئے تھے اور عمارت کو آگ بھی لگا دی گئی تھی۔ عوامی لیگ کی قیادت والی حکومت کے زوال کے بعد 5 اگست 2024 سے دفتر کا مرکزی دروازہ بند تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال اب قابو میں ہے۔














