جب کبھی عمران خان کی رہائی کی کوئی صورت بنتی نظر آتی ہے، تحریک انصاف اپنی بے بصیرتی سے اسے ضائع کر دیتی ہے۔ اب تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ تحریک انصاف عمران خان کی رہائی چاہتی بھی ہے یا نہیں۔
یہی حالت رہی تو کچھ عجب نہیں کہ ایک وقت آئے جب عمران خان کے چاہنے والوں کو ایک نئی تحریک چلانی پڑے کہ عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ۔
سیاست دھوپ چھاؤں کا نام ہے۔ یہاں ایک راستہ بند ہوتا ہے تو دو راستے نکل بھی آتے ہیں۔ اس کے لیے مگر سیاسی بصیرت اور تدبر درکار ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کا معاملہ یہ ہے کہ اس نے سیاسی فہم اور تدبر کو اپنا ذاتی دشمن سمجھ رکھا ہے۔
یہ دنیا کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اپنے کارکنان کو پیشہ ور یوٹیوبرز کے اندھے دھندے کا ایندھن بنا دیا ہے۔ وہ آگ لگاتے ہیں اور ڈالر کماتے ہیں جب کہ پی ٹی آئی کا کارکن وحشت کے اس کھیل میں استعمال ہوتا ہے۔ یوٹیوبرز کے اس دھندے میں وہ دھول اڑی کہ ڈھنگ کی بات کرنے والے اجنبی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے
پارٹی کے اندر ہر وہ رہنما جو کچھ سیاسی شعور اور بصیرت رکھتا تھا اسے ذلیل اور رسوا کیا گیا ، جس نے معقول بات کی اسے غدار قرار دے دیا گیا۔ پارٹی کا بیانیہ پارٹی کی سیاسی قیادت طے نہیں کرتی ، یہ یو ٹیوبرز بناتے ہیں۔
الگوردم کی پراسرار سرپرستی نے اس کھیل کو بڑا پیچیدہ اور سفاک بنا دیا ہے۔ ہیجان ، نفرت اور ریاست دشمنی کی ریٹنگ آتی ہے، معقول بات کہنے والا گالیاں کھاتا ہے۔
کچھ حالات کا جبر بھی ہو گا لیکن زیادہ یہ بے بصیرتی ہے کہ سیاسی لوگ ایک ایک کر کے دیوار سے لگا دیے گئے اور طفلان خود معاملہ کو فیصلہ ساز بنا دیا گیا۔ جو اپنی اور دوسروں کی عزت سے یکساں درجے میں بے نیاز ہوتا ہے وہ معتبر ہو جاتا ہے، جو تہذیب کا دامن تھامے اسے بزدل قرار دے دیا جاتا ہے۔
لوگوں کو گندی اور غلیظ گالیاں دے دے کر خود سے دور کر دیا۔ حکمت عملی بنا لی گئی کہ جو اختلاف کرے اس کو ایسی ایسی گالیں دی جائیں کہ آئندہ وہ ایسی جرات نہ کر سکے۔ کوئی ان کو سمجھانے والا نہیں تھا کہ بد زبانی کوئی پالیسی نہیں ہوتی۔ اس سے رد عمل پیدا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: سڑکیں بند کرنا کون سا احتجاج ہے؟
حالت یہ ہے کہ وزیر اعلی اعلان فرماتا ہے کہ ہمارا سوشل میڈیا ہماری اسٹیبلشمنٹ ہے۔لے دے کے ایک محمود اچکزئی صاحب باقی بچے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا سے گذارش کی کہ ہم سب بیٹیوں والے ہیں یہ زبان استعمال نہ کیا کرو۔ ایسا نہیں ہے کہ پارٹی میں سے کوئی اور بہنوں بیٹیوں والا نہیں تھا، ہاں مگر کسی میں ہمت نہیں تھی کہ سوشل میڈیا کے بد زبان جتھوں سے اختلاف کر کے انہیں اپنے پیچھے لگالیتا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک انصاف کا سارا بیانیہ اشتعال، مبالغے ، جھوٹ اور بدزبانی کا شکار ہو گیا۔ کمانے والوں نے تو ڈالر کمائے لیکن سیاسی جماعت کو ایک انتشار پسند جتھے کی شکل دے دی۔ تحریک انصاف ایسی تو نہ تھی۔ نفرت اور دھندے کے اس کھیل میں اس کا اخلاقی وجود برف کے باٹ کی صورت دھوپ میں رکھ دیا گیا۔
اب پارٹی میں سرخرو ہونے اور معتبر ہونے کی ایک ہی صورت تھی۔ اشتعال انگیز بات کرو ، گالیاں دو ، نفرت پھیلاؤ ۔ جو اس فن کے ماہر نہ تھے وہ خاموش ہو بیٹھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پارٹی قیادت بیٹھ کر، سوچ کر فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی۔ وہ اب مجبور ہے کہ سوشل میڈیا پر جو نفرت آمیز بیانیہ الگوردم کی مشکوک واردات کے ساتھ پھیلایا جائے اسی پر عمل کرے۔ اسی اخلاقی المیے کو اس قبیلے میں اب شعور کہا جاتا ہے۔
جب حماقت اور اشتعال ہی دلاوری قرار پائے تو اس کا منطقی انجام یہ ہوا کہ درجن بھر وکیل تو عمران خان کے صدقے معتبر ہوئے اور کچھ پارلیمان جا پہنچے یا وکالت مزید چمکالی لیکن عمران جیل میں ہی رہے۔ یو ٹیوبرز نے دھندا کر لیا لیکن عمران خان رہا نہ ہو سکے۔
مزید پڑھیں: محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟
ایک گروہ وہ ہے بحران جس کی اکانومی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہی گروہ بیانیہ ساز ہے۔ بحران ختم ہو گا تو اس گروہ کی معیشت سکڑ جائے گی۔ دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ بحرانی کیفیت جب تک تھمے گی نہیں، عمران خان کی رہائی ممکن نظر نہیں آ رہی ۔
کم از کم دو مواقع ایسے تھے کہ عمران خان کی رہائی کے معاملات حقیقت بنتے نظر آ رہے تھے لیکن تحریک انصاف نے خود بحرانی کیفیت پیدا کر کے انہیں تباہ کر دیا گیا۔
نومبر 2024 میں یہی صورت حال تھی۔ امریکا میں ٹرمپ الیکشن جیت چکے تھے ۔ ایک امکان ضرور تھا کہ کہیں وہ عمران کی رہائی کا مطالبہ نہ کردیں۔ شنید یہ ہے کہ اس سے پہلے ہی معاملات کو نبٹانے کی کوشش کی گئی لیکن تحریک انصاف نے 26 نومبر کو اسلام آباد پر یلغار کر دی۔
واقفان حال بتاتے ہیں کہ اگر چہ عمران خان نے انہیں سنگجانی سے آگے نہ جانے کا کہا اور اگر چہ علی امین گنڈا پور بھی یہی کہتے رہے لیکن بحران زدہ سوچ غالب آئی اور اس کے بعد ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ معاملات طے کر کے تو رہائی ہو سکتی تھی، منگولوں جیسی لشکر کشی کر کے جیل کے دروازے نہیں کھل سکتے تھے ۔
مزید پڑھیں: ایک تھا ونڈر بوائے
دوسرا موقع اب آیا تھا جب عمران خان کی آنکھ کے حوالے سے علاج معالجے کی خبر باہر آئی۔ ایک وقت تو ایسا آیا کہ عمران خان صاحب کی رہائی بالکل یقینی دکھائی دینے لگی۔ تحریک انصاف کے ایک دوست رہنما نے مجھے مٹھائی تک بھجوا دی کہ رہائی اب یقینی ہے۔ لیکن تحریک انصاف کو جانے کس نے شہہ دی کہ وہ شاہراہیں اور موٹر ویز بند کر کے بیٹھ گئی، جو معاملہ افہام و تفہیم کے ساتھ حل ہونے جا رہا تھا سڑکوں کی بندش کے احمقانہ اقدام نے اسے الجھا دیا۔
ان دو چار دنوں میں یوٹیوبرز کا دھندا تو خوب چلا ہوگا، علیمہ خان کی عزیمت کے سہرے بھی بہت کہے گئے ہوں گے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ حاصل کیا ہوا؟ سڑکیں کھل چکی ہیں، ٹریفک رواں ہے لیکن عمران خان ابھی تک جیل میں ہیں۔
اب بھی دیر نہیں ہوئی، پارٹی میں صاحب فہم لوگوں کو آگے آنا ہو گا۔ یو ٹیوبرز کی بجائے سیاسی قیادت کو بیٹھ کر اپنا بیانیہ خود بنانا ہو گا۔ یلغار کی بجائے بیٹھ کر بات کرنا ہو گی۔ بادلوں اور کہکشاؤں سے اتر کر زمین پر آنا ہو گا۔ سیاست تو بند گلی سے راستہ نکال لیتی ہے، جیل کے باہر تو پھر ایک دروازہ موجود ہوتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔










