رمضان کے آغاز پر پاکستانی شہری مہنگائی کے دباؤ کے باعث اپنے گھریلو بجٹ کو محتاط انداز میں استعمال کر رہے ہیں اور خریداری کے اپنے معمولات میں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا، پاکستان میں کل پہلا روزہ ہوگا
مہنگے یوٹیلیٹی بل اور اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں لوگوں کے اخراجات پر اثر ڈال رہی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ رمضان کی تیاریوں میں محتاط رویہ اختیار کررہے ہیں۔
عام طور پر رمضان میں جب مسلمان صبح سے شام تک روزہ رکھتے ہیں اور افطار کے لیے خصوصی کھانے تیار کرتے ہیں، پاکستان بھر میں پھل، تلی ہوئی چیزیں اور مٹھائیاں زیادہ فروخت ہوتی ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں مہنگائی اور اقتصادی بحران کے بعد بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے نے خریداری کے رجحانات بدل دیے ہیں۔
اس وجہ سے درمیانے طبقے کے کئی گھرانے خریداری محدود کر رہے ہیں جبکہ تاجر پچھلے رمضان کے مقابلے میں کم فروخت رپورٹ کررہے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اشیا کی قیمتیں بلند سطح پر ہیں، جس کی وجہ سے رمضان کی خریداری میں گھریلو بجٹ پر دباؤ برقرار ہے۔
مزید پڑھیں: ماہِ رمضان میں سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹس کو وائرل بنانے کے لیے بہترین وقت کون سا ہے؟
تاجروں کا کہنا ہے کہ عام طور پر لوگ رمضان کے دوران مختلف اشیا خرید رہے ہوتے تھے، لیکن اس بار رجحان مختلف ہے اور لوگ خریداری کم کررہے ہیں۔











