بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

جمعرات 19 فروری 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لیجیے صاحب! بنگلہ دیش نے تیسری بار بھی آزادی حاصل کرلی اور ہم ابھی تک 1947 میں کھڑے ہیں۔ اگلوں نے اپنی دوسری آزادی والے نام نہاد بابے کو بھی پہلے پرلوک پہنچایا اور مدت بعد اس کے مجسموں اور بیٹی سے بھی جان چھڑا لی جبکہ ہم ابھی تک ایمبولینس والی بحث میں الجھے بیٹھے ہیں۔ شیخ مجیب ہی کیا، گولی تو گاندھی جی کو بھی کھانی پڑی تھی۔

آپ کو یقیناً حیرت ہو رہی ہوگی کہ جس واقعے کو ہم بنگلہ دیش کی تیسری آزادی کہہ رہے ہیں، وہ پیش تو اگست 2024 میں آیا تھا، اور کالم ہم اس پر 18 ماہ بعد لکھ رہے ہیں؟ ایسا ہے کہ ہم جلد بازی نہیں کرتے۔ جذبات کی رو میں بہہ کر وہ بونگی نہیں مارتے جس پر حواس بحال ہونے پر پچھتانا پڑے۔ ہمیں انتظار تھا بنگلہ دیشی الیکشن کا۔ ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ الیکشن ہوتا کس ماحول میں ہے؟ ٹرن آؤٹ کتنا رہتا ہے؟ اور عوامی ووٹ کسی یکسوئی کا مظاہرہ کرتا ہے یا انتشار کا؟

سو الیکشن ہوچکے، اس میں حسینہ واجد اور مکتی باہنی کا نہ ہونا بنگالیوں کے لیے باعث اطمینان تھا، ٹرن آؤٹ برصغیر پاک و ہند کے حساب سے بہتر تھا، عوامی فیصلہ دو تہائی اکثریت سے بھی زیادہ کے ساتھ آیا ہے اور بنگلہ دیش میں انتقال اقتدار کا مرحلہ بھی سر ہوچکا۔ سو اگست 2024 سے شروع ہونے والا عمل دستوری مہر کے ساتھ مکمل ہوچکا۔ اب بصد اطمینان اسے بنگلہ دیش کی تیسری آزادی کہا جاسکتا ہے۔ کیسے؟ یہ ہم ابھی عرض کردیتے ہیں، مگر پہلے ایک ہلکا سا بیک گراؤنڈ دیکھ لیجیے۔

تقسیم کے زمانے میں لکھی گئی تاریخ میں دو شخصیات یہ کہتی ملتی ہیں کہ پاکستان جس جغرافیائی شکل کے ساتھ وجود میں آرہا ہے یہ غیر موزوں ہے، زیادہ دیر چل نہیں پائے گا۔ الجھن مشرقی اور مغربی پاکستان کے بیچ حائل انڈیا پیدا کرتا نظر آرہا تھا۔ سو فکر مندی بھی ان دو مسلمان لیڈروں نے ظاہر کی جو پاکستان کا حصہ نہیں بنے تھے۔ ایک مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے مولانا حسین احمد مدنی۔ آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہی ہوگا، جس میں کسی نوجوان نے نصف شب آنے والے اجنبی مہمان کو یہ کہہ کر گیٹ سے لوٹا دیا تھا کہ ہمارے گھر میں دو ہی چارپائیاں ہیں، ایک میں میری ماں اور بیوی سوتی ہیں، اور دوسری میں ابا جی اور میں، تو اجنبی نے لوٹتے ہوئے مشورہ دیا تھا۔

’مجھے رات کے لیے جگہ نہیں دینی تو نہ دو، لیکن اپنے سونے کی ترتیب ٹھیک کرلو‘

سو مذکورہ دونوں مولانا بھی بس اتنا ہی کہہ رہے تھے کہ ہمارے ساتھ نہیں رہنا تو مت رہو، مگر اپنے رہنے کی ترتیب ٹھیک کرلو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دسمبر 1971 سے پیچھے والے پاکستان میں مشرقی پاکستان کا بری طرح استحصال ہوا تھا۔ جس نے علیحدگی کے لیے وہاں داخلی طور پر ہی ماحول بنا دیا تھا۔ لیکن بالفرض ایسا نہ بھی ہوا ہوتا تو اس جغرافیے کے ساتھ بقا کی کوئی گارنٹی نہ تھی۔ ریاست کی وحدت محض نظریاتی نہیں جغرافیائی بھی ہو تو اس کا تحفظ قابل عمل ہوتا ہے۔ ورنہ ایک ہی گلی میں غنڈہ آکر بیٹھ جائے تو آمنے سامنے والے دو گھروں کی باہمی آمدورفت بھی محال ہوجاتی ہے۔

ہم نے تین بلنڈر کیے تھے، پہلا یہ کہ سنگل پیس کی بجائے 2 پیس وطن لے لیا۔ دوسرا یہ کہ دوسرے پیس کے تحفظ کو نظر انداز کیا، عسکری طاقت مغربی پاکستان میں رکھی، تیسرا اور سب سے بڑا بلنڈر یہ کہ ملک کے اس غیر محفوظ حصے کا استحصال بھی شروع کردیا۔ جس سے انڈیا کے لیے اپنا کھیل رچانا ممکن ہی نہیں بہت آسان بھی ہوگیا، اور جب بنگلہ دیش نے ہم سے علیحدگی حاصل کرلی تو واضح بھی ہوگیا کہ بنگلہ دیش آزاد نہیں ہوا بلکہ پاکستان کے آسمان سے گر کر انڈیا کے کھجور میں اٹک گیا ہے۔ ان کا نام نہاد بابائے بنگلہ ایک انڈین گماشتے سے زیادہ کچھ نہ ثابت ہوا تھا، اس حقیقت کو مستحکم کرنے میں کوئی کسر باقی بھی تھی تو وہ حسینہ واجد نے اپنے جابرانہ اقتدار کے آخری 15 سالوں میں پوری کردی تھی۔

بنگلہ دیش کو معاشی طور پر کمزور، سیاسی طور پر غیر مستحکم، سفارتی لحاظ سے محتاج اور عسکری لحاظ سے لاغر رکھنا انڈیا کی وہ حکمت عملی تھی جسے پالیسی بنا کر ملک پر شیخ مجیب کے خاندان نے مسلط کیا۔ ہمارے لوکل لبرلز ابھی حالیہ سالوں میں ہی یہ چورن بیچتے پائے گئے تھے کہ دیکھو بنگلہ دیش نے ہم سے جان چھڑا کر کتنی ترقی کرلی۔ دیکھنے والوں میں ہم بھی شامل تھے، سو ہم بس مسکرا کر رہ جاتے۔ اور جلد ہی واضح ہوگیا کہ صرف ہم ہی نہیں بنگالی قوم بھی ماننے کو تیار نہیں کہ آزادی نے اسے ترقی دلائی ہے۔ اگست 2024 میں اس قوم نے محض حسینہ واجد سے چھٹکارا حاصل نہ کیا بلکہ شیخ مجیب کا مجسمہ گرا کر اعلان کردیا کہ ہم اب بھی محکوم تھے اور جب وہ عوامی ریلا آیا تو حسینہ واجد فرار ہوکر گئی کہاں؟ پوری دنیا میں اسے جائے پناہ صرف انڈیا کیوں نظر آیا؟ مکتی باہنی کی باقیات انڈیا نہ جاتی تو کہاں جاتی؟

اب ذرا ایک نظر مستقبل پر بھی ڈال لیتے ہیں۔ اس لمحہ موجود میں بنگلہ دیش ایک ایسا ملک ہے جسے تاریخ نے سب سے بڑا سبق ہی یہ سکھا دیا ہے کہ کسی بھی ملک سے اتنی قربت اختیار نہیں کرنی چاہیے کہ قومی خود مختاری ہی ختم ہوکر رہ جائے، وہ پاکستان اور انڈیا دونوں کو چکھ چکے اور وہ بھی بہت قریب سے۔ سو ان کی اولین ترجیح اپنی قومی خود مختاری ہے۔ مگر مسئلہ یہ بھی ہے کہ عالمی محلے میں آپ تنہا نہیں رہ سکتے۔ یہاں دشمن آپ کو مفت میں ملتے ہیں، جبکہ دوست آپ کو تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ ایسے دوست جو آپ کی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے آپ کا ساتھ دیں۔ پچھلے 18 ماہ کے دوران بنگلہ دیش بہت تیزی سے پاکستان کی جانب آیا ہے، اور پاکستان نے بھی اپنی باہیں اس بچھڑے بھائی کے لیے پوری طرح پھیلا دی ہیں۔ صاف نظر آرہا ہے کہ پاکستان اس بچھڑے بھائی پر کچھ اس طرح نثار ہونا چاہتا ہے کہ یہ پرانے دکھ اور شکایتیں مکمل طور پر بھول جائے۔

اس نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو گویا اب جاکر ہمارے سونے کی ترتیب ٹھیک ہونے کا وسیع امکان پیدا ہوگیا ہے، آزاد و خود مختار پاکستان، آزاد و خودمختار بنگلہ دیش، اور ان دونوں کے بیچ قائم اخوت کا رشتہ، ساتھ ہی سیاسی معاشی و عسکری تعاون۔ اگر پاکستان آنے والے سالوں میں سمجھداری سے چلا تو سونے کی یہ درست ترتیب مستحکم بھی ہوتی چلی جائے گی۔ سمجھداری پاکستان کو ہر حال میں یہ دکھانی ہے کہ بنگلہ دیش کی قومی خود مختاری کمپرومائز نہ ہونے پائے۔ بلکہ اس کے برعکس ہماری ترجیح یہ رہنی چاہیے کہ جتنی بنگلہ دایش کی قومی خود مختاری، سیاسی حیثیت، اور عسکری طاقت مضبوط ہوگی اتنا ہی یہ پاکستان کے لیے بھی بہتر ہوگا۔

اگر آپ خطے کی مجموعی صورتحال دیکھیں تو ماڈرن ورلڈ کا نیا لیڈر چائنا پاکستان کے حوالے سے 5 سٹیپس پر مشتمل ایک حکمت عملی پر عمل پیرا نظر آرہا ہے۔ پہلا سٹیپ یہ تھا کہ انڈیا کو اپنے ہی خطے میں تنہا کیا جائے۔ اس کے لیے چین کو زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی، کیونکہ آدھا کام تو انڈیا خود ہی کرچکا تھا۔ پڑوسیوں کے ساتھ اس کی جارحانہ حکمت عملی سب کو اس سے متنفر کرچکی تھی۔ یوں چین کو بس اتنا ہی کرنا تھا کہ آگے بڑھ کر جنوبی ایشیا کے ان ممالک کو نوازنا شروع کردیتا، اور اس نے وہی کیا۔ اب وہ سٹیپ 2 پر عمل پیرا ہے، جس کے دوران وہ جنوبی ایشیائی ممالک کا متبادل نیٹ ورک بنا رہا ہے۔ سٹیپ 3 کی بھی وہ ابھی سے تیاری شروع کرچکا، جو یہ ہے کہ اس نیٹ ورک کا مرکز وہ پاکستان کو بنانے جا رہا ہے، کیونکہ جنوبی ایشیا میں صرف پاکستان ہی ہے جو اپنے سے کئی گنا بڑے انڈیا کی ناک کاٹنے کی صرف ہمت ہی نہیں تجربہ بھی وسیع رکھتا ہے، اور چائنیز اسکیم میں یہ اس کی بڑی کوالیفکیشن ہے۔ چوتھے سٹیپ میں جب یہ عمل مکمل ہوجائے گا اور ان ممالک کی ایک نئی تنظیم بھی وجود میں آجائے گی تو خطے کے نقشے میں سارے رنگ بھر چکے ہوں گے۔

اس صورتحال میں جب ہم بنگلہ دیش کی جگہ کھڑے ہوکر دیکھتے ہیں تو پاکستان دروازہ، چین سرمایہ اور انڈیا مسئلہ نظر آتا ہے۔ یوں پاکستان سے قربت میں بنگلہ دیش کے بڑے فائدے نظر آتے ہیں۔ وہ فائدے جو براستہ اسلام آباد اسے چین سے بڑی معاشی و عسکری نوازشات دلا سکتی ہیں، اگر انڈیا تنہائی کا شکار ہو، اور خطے میں اس کی دادا گیری کو چیلنج کرنے والا ملک صرف پاکستان ہو، اور اس پاکستان کی جانب بنگلہ دیش جھکاؤ اختیار کرتا واضح نظر آرہا ہو تو سمجھنا دشوار نہیں کہ باقی ممالک کس سمت جائیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp