کوئٹہ میں اربوں روپے کے سپورٹس منصوبے تعطل کا شکار، نوجوان بنیادی سہولیات سے محروم

جمعرات 19 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اربوں روپے کے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات اور بلند بانگ دعوؤں کے باوجود کوئٹہ کے نوجوان آج بھی جدید کھیلوں کی سہولیات سے محروم ہیں۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت منظور ہونے والے جدید سپورٹس کمپلیکس تاحال کاغذوں تک محدود ہیں، جس نے حکومتی ترجیحات اور منصوبہ بندی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) 2020-21 کے تحت بلوچستان میں جدید سپورٹس کمپلیکس کے قیام کا ایک اہم منصوبہ منظور کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد صوبے کے نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنا اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنا تھا۔ منصوبے کی مجموعی لاگت ایک ارب 31 کروڑ روپے رکھی گئی، جبکہ ابتدائی مرحلے میں 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔

 6 جدید اسٹیڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ

منصوبے کے تحت کوئٹہ کے مختلف علاقوں، خصوصاً سریاب روڈ، کچلاک اور دیگر مضافاتی علاقوں میں ایوب اسٹیڈیم کی طرز پر 6 جدید اسٹیڈیم تعمیر کیے جانا تھے۔ تاہم، منظوری کے کئی سال گزرنے کے باوجود ان منصوبوں پر عملی پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔

خصوصی طور پر سریاب روڈ پر ریڈیو پاکستان سینٹر کی زمین پر قائم کیے جانے والے سپورٹس کمپلیکس کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کے لیے ایک ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کیے گئے، مگر اب تک صرف ڈھائی کروڑ روپے خرچ کیے جا سکے ہیں، جو منصوبے کی رفتار اور سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔

مزید برآں، مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں بھی اس منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، تاہم زمینی سطح پر ترقیاتی کاموں کی رفتار نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری اسپورٹس درہ بلوچ نے کہا کہ سریاب روڈ پر نوجوانوں کے لیے اسپورٹس کمپلیکس بنائے جانے کا منصوبہ تھا، جس کے لیے حکومت بلوچستان نے ریڈیو پاکستان کی زمین کو چنا تھا۔ تاہم ریڈیو پاکستان ایمپلائز کی جانب سے عدالتی کیس دائر کر دیا گیا، جس کے بعد عدالت نے اس منصوبے پر سٹے دے دیا۔ دوسری جانب حکومت بلوچستان نو کلی کے علاقے میں نیا سپورٹس کمپلیکس بنانے جا رہی ہے، جبکہ اس کے علاوہ ڈی ایچ اے میں بھی قائم کیے جانے والا سپورٹس کمپلیکس حکومتی تعاون سے بنایا جا رہا ہے۔

کھیلوں کے منصوبوں میں تاخیر محض انتظامی مسئلہ؟

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں کھیلوں کے منصوبوں میں تاخیر محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ پالیسی سطح پر عدم توجہ کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق کھیلوں کی سہولیات نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور انہیں منفی رجحانات سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر سپورٹس کمپلیکس بروقت مکمل کیے جاتے تو نہ صرف مقامی سطح پر ٹیلنٹ کو فروغ ملتا بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی بلوچستان کے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے تھے۔ ان کے مطابق تاخیر کے باعث نوجوان گلی کوچوں اور غیر معیاری میدانوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ترقیاتی فنڈز کے باوجود منصوبوں کی تکمیل نہ ہونا گورننس کے مسائل اور نگرانی کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مختص فنڈز کو شفاف اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو نہ صرف کھیلوں کا فروغ ممکن ہے بلکہ اس سے مقامی معیشت اور سماجی استحکام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سپورٹس کمپلیکس کے منصوبوں کو فوری مکمل کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو جدید سہولیات فراہم ہو سکیں اور صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ایپسٹین نے اپنے گھناؤنے راز مجھے بتائے‘ متاثرہ خاتون کے چونکا دینے والے انکشافات

جیفری ایپسٹین کو خفیہ دستاویزات دینے کا الزام، سابق پرنس اینڈریو کی ’زیرِ تفتیش‘ رہائی

نامور فلم ساز گھر میں مردہ پائے گئے، لاش کئی روز تک پڑی رہنے کا انکشاف

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

’عوام کو خشک روٹیاں دکھا کر پچھلے گیٹ سے کھانے منگواتے رہے‘، دھرنے کے دنوں کی منفرد ویڈیو وائرل

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب