سڈنی میں مسجد کو دھمکی آمیز خط، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا

جمعرات 19 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسٹریلوی پولیس نے سڈنی کے مغرب میں واقع لاکیمبا مسجد کو بھیجے گئے دھمکی آمیز خط کے بعد تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

واضح رہے کہ اسی مسجد سے متعلق رمضان المبارک سے قبل اس نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں یہودی مخالف حملوں کی تحقیقات کے لیے قومی رائل کمیشن کا اعلان

میڈیا رپورٹس کے مطابق، بدھ کو بھیجے گئے خط میں ایک سور کی تصویر اور ’مسلم نسل کو قتل کرنے‘ کی دھمکی شامل تھی۔

پولیس نے خط کو فورینزک جانچ کے لیے لے لیا اور اعلان کیا کہ وہ مذہبی مقامات اور کمیونٹی ایونٹس کی نگرانی جاری رکھیں گے۔

یہ تازہ دھمکی ایسے وقت آئی ہے جب کچھ ہفتے قبل اسی مسجد کو ایک اور خط موصول ہوا تھا جس میں مسلمانوں کو مسجد میں آگ میں جلتے دکھایا گیا تھا۔

جنوری میں موصول ہونے والے تیسرے دھمکی آمیز خط کے سلسلے میں پولیس نے 70 سالہ شخص کو گرفتار اور مقدمہ درج کر کے عدالت میں پیش کیا ہے۔

لاکیمبا مسجد کو چلانے والی لبنانی مسلم ایسوسی ایشن نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ انہوں نے حکومت سے اضافی سیکیورٹی گارڈز اور کلوز سرکٹ کیمرے کے لیے فنڈنگ کی درخواست کی ہے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا نے اسرائیلی سوشل میڈیا انفلوئنسر کا ویزا کیوں منسوخ کیا؟

رمضان کے دوران تقریباً 5,000 افراد ہر رات مسجد میں شرکت کی توقع رکھتے ہیں۔ لاکیمبا کے رہائشیوں میں سے 60 فیصد سے زائد مسلمان ہیں۔

کینٹربی-بینک ٹاؤن کونسل کے میئر بلال الحیاک نے کہا کہ کمیونٹی ’انتہائی فکرمند‘ محسوس کر رہی ہے۔

’میں نے براہِ راست لوگوں سے سنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو رمضان میں عبادت کے لیے نہیں بھیجیں گے کیونکہ وہ مقامی مساجد میں ممکنہ خطرات سے بہت خوفزدہ ہیں۔‘

مزید پڑھیں: سڈنی فائرنگ واقعہ: اپنی جان پر کھیل کر کئی جانیں بچانے والا مسلمان شہری احمد ہیرو قرار

وزیراعظم انتھونی البانیز نے حالیہ دھمکی آمیز خطوط کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

’میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ ہمیں اس ملک میں سیاسی مباحثے کا درجہ کم کرنا ہوگا، اور یہ یقیناً ضروری ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق، 2023 میں غزہ پر مسلط اسرائیلی جنگ کے بعد آسٹریلیا میں مسلم مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا میں اسلحہ کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ، حکومت متحرک

اسلاموفوبیا رجسٹر آسٹریلیا نے بھی 14 دسمبر کو بونڈائی بیچ پر ہونے والے قتل عام کے بعد رپورٹوں میں 740 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق بونڈائی میں داعش سے متاثر 2 افراد نے یہودی تہوار میں شریک 15 افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔

میئر بلال الحیاک نے کہا کہ بونڈائی بیچ کے واقعے کے بعد تناؤ میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

’بلا شبہ، یہ سب سے شدید صورتحال ہے جو میں نے دیکھی ہے۔ وہاں کافی کشیدگی پائی جاتی ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

افغانستان کے بعد ایرانی سرحد پر راہداری نظام ختم کرنے کا فیصلہ، کاروباری طبقے پر ممکنہ اثرات پر تشویش

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی حکومت کو زیادہ وقت دے رہے ہیں یا پارٹی کو؟

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ