دہشتگردی اور کمزور ریاستی کنٹرول، افغانستان کی نئی تشکیل اور سرحدوں کی ازسرِنو ترتیب کی تجویز

جمعرات 19 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کی موجودہ بدامنی اس کی تاریخی تشکیل، نسلی ساخت اور سیاسی کنٹرول کے طریقۂ کار میں پیوست ہے۔ ایک تفصیلی تجزیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان ایک متحد ریاست کے طور پر ابھرنے سے بہت پہلے مختلف نسلی گروہوں خصوصاً تاجک، ازبک، ہزارہ اور پشتون کا مسکن تھا، جو الگ الگ جغرافیائی خطوں میں آباد تھے۔ یہ برادریاں مرکزی قومی اقتدار کے بجائے مقامی طاقت کے ڈھانچوں، قبائلی وابستگیوں اور علاقائی خودمختاری کے تحت منظم تھیں۔

احمد شاہ ابدالی سے جدید ریاست تک

افغانستان کی جدید ریاست کی تشکیل اٹھارہویں صدی کے وسط میں احمد شاہ ابدالی (احمد شاہ درانی) کے دور میں ہوئی۔ مغل اور صفوی سلطنتوں کے زوال کے بعد انہوں نے مختلف پشتون قبائل کو متحد کیا اور عسکری فتوحات اور سیاسی اتحادوں کے ذریعے ایک وسیع علاقے پر کنٹرول قائم کیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا صبر لامحدود نہیں، اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کے تحت افغانستان کو جواب دینے کا حق رکھتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

اگرچہ ان کی حکمرانی نے افغان ریاست کی بنیاد رکھی، تاہم یہ زیادہ تر پشتون مرکزیت پر مبنی تھی۔ حکمرانی کا انحصار جامع اور شمولیتی اداروں کے بجائے قبائلی وفاداری اور عسکری برتری پر تھا، جس کے نتیجے میں غیر پشتون نسلی گروہ سیاسی طور پر حاشیے پر چلے گئے۔

احمد شاہ کی وفات کے بعد افغانستان کو داخلی ہم آہنگی برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ اقتدار مختلف حکمرانوں کے درمیان منتقل ہوتا رہا، جن کا کنٹرول اکثر بڑے شہروں اور تجارتی راستوں تک محدود تھا۔ ملک کا بڑا حصہ نیم ریاستی صورتِ حال کا شکار رہا، جہاں علاقائی خودمختاری، کمزور مرکزی اختیار اور مسلسل داخلی تنازعات موجود تھے۔ نسلی دھڑوں نے اپنے اپنے علاقوں پر عملی کنٹرول برقرار رکھا، جبکہ مرکزی حکومت محض رسمی خودمختاری کا دعویٰ کرتی رہی۔

افغانستان کی نسلی ساخت اور لسانی صورتحال

افغانستان ایک کثیر النسلی معاشرہ ہے، جہاں تقریباً 42 فیصد پشتون، 27 فیصد تاجک، جبکہ تقریباً 9، 9 فیصد ہزارہ اور ازبک آباد ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 3 فیصد ترکمان، 2 فیصد بلوچ اور 8 فیصد دیگر نسلی گروہ جیسے ایماق، پشائی، نورستانی، عرب اور پامیری شامل ہیں۔ پشتو اور دری (افغانی فارسی) ملک کی سرکاری زبانیں ہیں۔

اگرچہ ازبک اور ترکمان آبادی قابلِ ذکر ہے، تاہم ترک زبانوں کو قومی سطح پر وہ اہمیت حاصل نہیں جو پشتو اور دری کو حاصل ہے۔

تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ احمد شاہ ابدالی کے دور سے قائم پشتون مرکز حکمرانی کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا۔ پشتونوں کو اقتدار میں غیر متناسب نمائندگی حاصل رہی، جس سے دیگر نسلی گروہوں میں محرومی اور جبر کا احساس پیدا ہوا۔ بعض حلقوں کے مطابق لفظ “افغان” کو پشتون کے مترادف سمجھا جاتا ہے، جس پر دیگر اقلیتیں تحفظات کا اظہار کرتی ہیں۔

نسلی جغرافیہ اور سرحد پار روابط

افغانستان کا نسلی جغرافیہ ریاستی استحکام کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ پشتون جنوب اور مشرق میں، تاجک شمال مشرق اور شہری مراکز میں، ازبک شمال میں اور ہزارہ وسطی پہاڑی علاقوں میں آباد ہیں۔ وقت کے ساتھ جبری نقل مکانی، اندرونی بے دخلی اور سیاسی مداخلت نے ان جغرافیائی تقسیمات کو مزید حساس بنا دیا۔

سرحد پار نسلی روابط نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنایا۔ تاجک تاجکستان، ازبک ازبکستان اور پشتون پاکستان سے ثقافتی و لسانی رشتے رکھتے ہیں۔ ان تعلقات نے اکثر سیاسی صف بندیوں اور بیرونی مداخلت کو متاثر کیا، جس سے قومی یکجہتی مزید کمزور ہوئی۔

دہشتگردی اور کمزور ریاستی کنٹرول

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نسلی تقسیم اور حکمرانی کی ناکامیوں کے ساتھ ساتھ طویل بدامنی نے افغانستان کو مختلف شدت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کے لیے پناہ گاہ بنا دیا۔ کمزور مرکزی اختیار، کھلی سرحدیں اور وسیع علاقوں پر مؤثر ریاستی کنٹرول کی عدم موجودگی نے انتہا پسند گروہوں کو تربیتی مراکز اور لاجسٹک نیٹ ورکس قائم کرنے کا موقع دیا، جن کے اثرات خطے اور عالمی سلامتی تک پھیلے۔

علاقائی تقسیم کی تجویز

ان حالات کے تناظر میں ایک تجویز یہ پیش کی گئی ہے کہ افغانستان کو نسلی اور علاقائی بنیادوں پر پرامن طور پر ازسرِنو منظم کیا جائے۔ اس فریم ورک کے تحت ازبک اکثریتی علاقے ازبکستان کے ساتھ، تاجک اکثریتی علاقے تاجکستان کے ساتھ اور پشتون اکثریتی علاقے پاکستان کے ساتھ منسلک کیے جائیں۔ باقی علاقوں، جہاں زیادہ تر ہزارہ اور دیگر اقلیتیں آباد ہیں، کو ایک نئی خودمختار ریاست کی شکل دی جائے، جس کا نیا نام اور مشترکہ تاریخی شناخت ہو۔

یہ بھی پڑھیں:ہینلے انڈیکس: افغانستان کا پاسپورٹ بدستور دنیا کا کمزور ترین قرار

حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی علاقائی تنظیم نو نسلی بالادستی کو کم کر سکتی ہے، داخلی تنازعات کا خاتمہ کر سکتی ہے اور سیاسی سرحدوں کو سماجی حقائق کے مطابق ڈھال سکتی ہے۔

ممکنہ فوائد اور شرائط

تجزیے کے مطابق چھوٹی اور نسلی طور پر ہم آہنگ اکائیاں یا علاقائی انضمام مقامی حکمرانی کو مضبوط بنا سکتے ہیں، دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ کر سکتے ہیں، سرحدی نظم و نسق بہتر بنا سکتے ہیں اور انسداد دہشت گردی تعاون کو مؤثر بنا سکتے ہیں۔

تاہم اس منصوبے کی کامیابی کے لیے بین الاقوامی ضمانتیں، علاقائی تعاون اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی مضبوط یقین دہانی ناگزیر ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق یہ حکمت عملی طویل المدتی امن، انتہا پسندی میں کمی اور جنوبی و وسطی ایشیا میں استحکام کے فروغ کا ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ اسے سیاسی اتفاقِ رائے اور ذمہ دارانہ سفارتی عمل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اگلے 12 سے 18 ماہ میں لاکھوں ملازمین اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں

وزیراعظم کا دورۂ امریکا: عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال

سپریم کورٹ: سروس میٹر کیس میں وفاقی حکومت کی اپیل خارج، تاخیر معاف کرنے کی استدعا مسترد

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات میں کن امور پر گفتگو ہوئی؟

’ٹی وی کی آواز کم کرنے کو کیوں کہا‘، بیوی نے شوہر کو چاقو مار کر قتل کر دیا

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ