علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور

جمعرات 19 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے علما نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے جاری تشدد اور بے گناہ جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔

علما نے کہا ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی حرمت مسلمہ ہے اور عام شہریوں، مزدوروں، مسافروں یا سکیورٹی اہلکاروں کا قتل حرام اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیس بورڈ میں پاکستان اور اسلامی ممالک کی شمولیت فلسطین کے حق میں ہے، طاہر اشرفی

اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشتگردی، مسلح بغاوت اور عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، چاہے اس کے پیچھے کوئی بھی سیاسی یا نسلی دعویٰ کیوں نہ ہو۔

علما نے واضح کیا کہ اسلام کسی فرد یا گروہ کو جہاد کے اعلان یا دین کے نام پر تشدد کی اجازت نہیں دیتا اور اس طرح کے اقدامات اسلامی تعلیمات کی کھلی تحریف ہیں۔

علما نے اس امر کا اعتراف کیا کہ بلوچستان کے عوام کو انصاف، ترقی اور باوقار زندگی کے حوالے سے حقیقی مسائل درپیش ہیں، تاہم اسلام ان مسائل کے حل کے لیے پرامن، قانونی اور اخلاقی راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ ایسا تشدد جو مزید تباہی اور عدم استحکام کو جنم دے۔

مشترکہ بیان میں نوجوانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ عسکریت پسندی کو مسترد کریں اور تعلیم، صبر اور مثبت جدوجہد کا راستہ اپنائیں۔ ساتھ ہی ریاست سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ انصاف، انسانی وقار اور بامعنی مکالمے کے ذریعے عوامی مسائل کا حل یقینی بنائے۔

یہ بھی پڑھیں:بی ایل اے علیحدگی پسند گروہ نہیں، خطرناک دہشتگرد تنظیم ہے، امریکا

اعلامیے کے اختتام پر کہا گیا کہ اسلام دہشتگردی، ظلم اور ناانصافی تینوں کو مسترد کرتا ہے اور بلوچستان کا مستقبل امن، مفاہمت اور انصاف میں ہے، تشدد میں نہیں۔ علماء نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ وطن عزیز کو فتنہ و فساد سے محفوظ رکھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

افغانستان کے بعد ایرانی سرحد پر راہداری نظام ختم کرنے کا فیصلہ، کاروباری طبقے پر ممکنہ اثرات پر تشویش

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی حکومت کو زیادہ وقت دے رہے ہیں یا پارٹی کو؟

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ