برطانوی بادشاہ چارلس سوم کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو سرکاری عہدے میں بدعنوانی کے شبہے میں گرفتار کیے جانے کے بعد جمعرات کی شام پولیس حراست سے رہا کردیا گیا۔
66 سالہ اینڈریو سے ٹیمز ویلی پولیس نے سارا دن تفتیش کی، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری خفیہ دستاویزات امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کو فراہم کیں۔
یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کو حساس معلومات دینے کا شبہ، شاہ چارلس کے چھوٹے بھائی گرفتار
پولیس کے مطابق اینڈریو کو ’زیرِ تفتیش رہائی‘ دی گئی ہے جبکہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
جدید دور میں کسی سینیئر شاہی شخصیت کی گرفتاری کو غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
https://Twitter.com/bilyonaryo_ph/status/202472365210
کنگ چارلس سوم نے بیان میں کہا کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور شاہی خاندان مکمل تعاون کرے گا۔
اگرچہ بکنگھم پیلس کو گرفتاری کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی، تاہم بادشاہ نے واضح کیا کہ قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں۔
مزید پڑھیں: جنسی اسکینڈل: برطانوی پرنس اینڈریو سے ’پرنس‘ کا لقب سمیت تمام شاہی اعزازت واپس لے لیے گئے
اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر ماضی میں ایپسٹین سے تعلقات کے باعث 2019 میں تمام سرکاری شاہی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو چکے تھے اور ان سے تمام اعزازی خطابات بھی واپس لے لیے گئے تھے۔
انہوں نے جیفری ایپسٹین سے دوستی پر افسوس کا اظہار تو کیا ہے لیکن کسی بھی غلط کام کی تردید کرتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: برطانوی حکومت کا معزول شہزادہ اینڈریو سے آخری فوجی عہدہ واپس لینے کا اعلان
پولیس نے مشرقی انگلینڈ میں ان کی رہائش گاہ اور ونڈسراسٹیٹ پر واقع ایک مکان کی تلاشی بھی لی ہے۔
حکام کے مطابق گرفتاری جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں، تاہم سرکاری عہدے میں بدعنوانی ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پرنس اینڈریو کے جرائم پیشہ لوگوں سے تعلقات اور جنسی زیادتیاں، شاہی محل میں تنازع شدت اختیار کر گیا
یہ تحقیق 2022 میں مرحومہ ورجینیا گیوفری کے دائر کردہ سول مقدمے سے متعلق نہیں ہے، جسے اینڈریو نے عدالت سے باہر طے کر لیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ’افسوسناک‘ قرار دیا، جبکہ سابق برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے ایپسٹین کے نیٹ ورک سے متعلق وسیع تر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔













